ایم 8

رشید بلوچ
ہمارے بچن میں آواران قدرے ترقی یافتہ ہوا کرتا تھا،جس میں ریوالور ٹیلیفون کیلئے لگائے جانے والے کھمبے ایران بارڈر سے لسبیلہ تک ایستادہ ہوتے تھے،ہم گھنٹوں کھمبے پر کان لگا کر اس سے نکلنے والی چھر چھر کی آواز سے موسیقی کا لطف اٹھا تے تھے، امریکن سیٹلائٹ کمپنی نے جھاؤ کیمپ میں ریسرچ کیمپ بنائی تھی کس چیز کی ریسرچ ہوا کرتی تھی اس سے آواران و جھاؤ کے لوگ آج تک انجان ہیں ہاں بہر حال کمپنی سے مزدوری اچھی خاصی ملتی تھی،سن 85میں یومیہ ایک سواور ماہانہ تین ہزار روپے کی کمائی ہمارے لوگوں کیلئے بہت بڑا سر مایہ سمجھا جاتا تھا،مہینے کی پہلی تاریخ کو جھاؤ کیمپ کے دکانداروں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی جب مزدور مہینے بھر کاقرضہ دکانداروں کو یک مشت ادا کرتے تھے، تمام دکاندار سیٹھ کے نام سے مشہور تھے،مکران کی ساری ٹرانسپورٹ آواران سے گزرتی تھی جس سے دن بھر انسانی ریل پھیل ہوتی تھی گوکہ سڑکیں کچی تھیں لیکن روزگار کے مواقع موجود تھے،ہمارے لوگ خلیج میں مزدوری کیلئے جانے کے بجائے اپنے علاقے میں چھوٹا موٹا کاروبار کرکے گزر بسر کرتے تھے ہیں، جب کہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے سرکاری نوکریاں مشکے کے لوگوں کے کھاتے میں چلی جاتی تھیں،سرکاری دفاتر کے بابو اور ضلع بھر کے ٹیچر مشکے سے ہوتے تھے۔
پھر وقت نے پلٹا کھایا،آج کا آواران ہمارے بچپن کے آواران سے پسماندہ تر ہوتا چلا گیا،ریوالور والی ٹیلیفون کے کھمبے اکھڑ گئے،ایران و مکران کا رہ گزر ملیا میٹ ہوگیا، لوگوں نے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے خلیجی ممالک میں معمولی تنخواہ کے عوض نوکری شروع کر دی،صحت و تعلیم کا میعار ختم ہوچکا ہے،70%سکول و بنیادی صحت کے مراکز بند ہیں ٹیچر و عملہ موجود نہیں،آواران میں کوئی توپ نما نواب،سردار نہیں رہتا ہاں بہر حال محمدحسنی اور میرواڑی کا سردار مشکے میں رہتے ہیں صرف ایک سردار عارف جان محمد حسنی میر غواث بخش بزنجو کو ہرا کر ممبر قومی اسمبلی بنے تھے اس دور کو بھی 35سال ہوچکے،اپنا سردار محمد اسلم میرواڑی گدان نشین بندہ ہے،دونوں سرداروں کا بلوسطہ یا بلاوسطہ حکومتی اونچ نیچ سے کبھی پالا نہیں پڑا، پنجاب و دیگر صوبوں میں ایک عمومی رائے کو پروان چھڑایا جاتا ہے کہ سردار وقبائلی نظا ترقی مخالف ہے،بلوچستان کی پسماندگی کے زمہ دار بھی قبائلی سردار ہیں،ہوسکتا ہے کسی حد تک یہ رائے ٹھیک ہو لیکن میرا علاقہ نیم قبائلی بھی نہیں کہلایا جاسکتا، گزرے 40سالوں میں کوئی سردار بر سر اقتدار نہیں رہا اس لیئے کم سے کم آواران کی پسماندگی کی وجہ کوئی سردار،نواب نہیں ہوسکتا۔۔۔۔
پنجاب میں سرداریت کی عفریت پہلائی گئی ہے ہوبہو آواران میں حصول اقتدار کیلئے وہاں کے عوام کو سرداریت اور انکے جبری ٹیکس,, ششک،، سے ڈراتے ہیں، عوام میں ششک کا ڈر و خوف بلا جواز بھی نہیں کیونکہ کسی دو ر میں چند ایک سردار جھاؤ کے کسان پر اپنا اثر ورسوخ بڑھا کر ششک ہتھایا کرتے تھے،لیکن انکی جارحیت جھاؤ کے کسان کی مزاحمت کے سامنے دم توڑ گئی،اس دوران کسان تحریک کے روح رواں میر عبدالکریم اپنے بھتیجے محمد آدم کے ساتھ نادیدہ ہاتھوں قتل بھی ہوتے ہیں لیکن انکے وارث 40سالوں میں اقتدار میں رہ کر بھی قتل کے محرکات اور قاتلوں کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔۔
یو ں تو مقتول میر عبدالکریم کے وارث میر عبدالقدوس بزنجوکو اپنے علاقے کے درتء جامگ کسان کی بہتری کیلئے متعدد موقعے ملے لیکن ان کوایک نادر موقع جنوری 2018میں نواب ثنا اللہ زہری کی حکومت پر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعدبطور وزیر اعلیٰ ملی تھی اپنے وزارت اعلیٰ میں ایسا کوئی کارنامہ نہیں دکھا سکے جسے تا ابد یاد رکھا جائے، کہا جاتا ہے کہ انکی دور حکومت مختصر تھی چلے مان لیتے ہیں یہ بات کسی حد تک صحیح ہے مگر 6ماہ کی مدت بھی چھوٹے موٹے کام کیلئے کافی ہوتا ہے ان 6ماہ میں سپنی روڈ میں گندے پانی سے اگائے گوبی، پالک کی سبزیاں تلف کرنے اور کوئٹہ گلی کوچوں میں لوگوں ساتھ سلفیا بنانے میں وقت صرف کرنے کے بجائے ضلع آواران کے زمینوں کی سیٹلمنٹ ( settlement) کا کام بھی کرتے تو سالوں سے ششک کی لٹکتی تلوار وہاں کے کسان کے گردن سے ہمیشہ کیلئے ہٹایا جاسکتا تھا۔۔۔۔
اب خبر یہ آئی ہے کہ M8 سڑک کو سی پیک کا حصہ بنا دیا گیا ہے سڑک کی پختگی پر 24ارب روپے لاگت آئے گی،سڑک کا فاصلہ 124کلو میٹر ہے جو ہوشاپ سے لسبیلہ کی سرحد تک تعمیر ہوگی،یہ اعلان سی پیک کے چیئرمن سابق کمانڈر سدرن کمانڈ نے اپنے ایک ٹیوئٹ میں کیا تھا،حالانکہ 2019.20کی وفاقی بجٹ میں بھی اسے شامل کیا گیا تھا لیکن کسی وجہ سے اسکی منظوری نہ ہوسکی،چلیں ایک سال بعد پر درست آیاد اگر ہوشاپ سے لسبیلہ تک سڑک بن گئی تو مکران کی نسف آبادی کی گزر یہیں سے ہو گی جس سے آواران کی پرانی یادیں دوبارہ تازہ ہوں گی،روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے شاید خلیج میں مزدور طبقہ دوبارہ اپنا علاقہ لوٹ آئے،آوران کے لوگوں کیلئے تربت اور کراچی سیر گاہ بنے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں