گرد آلود خیال

جمشید حسنی
سوچتا ہوں کہ تحریر کے محرکات کیا ہوتے ہیں یہ ذہنی کاوش ہے یا دل خدمات پر اثر انداز ہونے والے معاملات کا ذکر دونوں کا تعلق جسم انسانی سے ہے۔مردے نہیں سوچتے۔جو زندہ ہے ہر وقت کسی نہ کسی فکر میں غلطان رہتاہے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جانور آیا سو چتے ہیں یا وقتی جبلتوں کے تحت زندہ رہتے ہیں۔
بات چلی تھی لکھت پڑھت سوچ ہے پیغمبروں پر الہامی ہوتا ہے شاعروں کے پاس آمد آورد ہوتی ہے شاعرنثر نگار پڑھا لکھا ہوتا ہے نبی کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہمارے پیغمبر مسلم معلم ان پڑھ تھے اس میں خداداد تعالیٰ کی مصلحت تھی کہ ان کا کسی کا شاگرد ہونا قبول نہ تھا۔ان پر اعتراض تھا کہ وہ عام آدمیوں کی طرح ہیں حکم نازل ہوا کہ اگر ہم ان کی جگہ فرشتے بھیجتے تو تم ان کو بھی قبول نہ کرتے۔
انسانی تہذیب کے ہر دور میں مذہب کا عمل دخل رہا ہے۔پیغمبر لوگوں کی توجہ حق کی طرف دلاتے معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کرتے اور متوازن معاشرہ کے قیام کی جدوجہد کرتے۔نظریہ تخلیق ہوتا نظریہ ارتقاء کا ئنا ت پر غور سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔باطل کی طرف سے ورغلایا ہے مگر فتح حق کی ہوتی ہے۔
دراصل میں تخلیقی فکر کے حوالہ سے بات کرنا چاہتا تھا اقبال نے کہا ہے
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
فکر وجذبات ایک دوسرے پر کس قدر اثر انداز ہوتے ہیں ماہرین نفسیات،فلسفی،مفکر نبی پیغمبر دانشور ہر دور میں تشریح کرتے رہے۔آج پیغمبر نہیں آتے۔شاعر نے کہا
سنسان پڑی ہیں برسوں سے رشد و ہدایت کی راہیں
اسد دور میں ہم سب اپنے نبی اس دور میں ہم سب اپنے امام
یورپ نے مذہب کو انفرادی معاملہ قرار دیا مگر مطلب یہ نہیں کہ وہ اخلاقی اقدار پر یقین نہیں رکھتے۔ادھر ہم ہیں کہ جج نمازیں پڑھتے ہیں معاملات میں ذاتی مفادات حرص و ہوسسے نہیں چوکتے۔حقوق اللہ تو اللہ معاف کرتا ہے مگر حقوق العباد کی گارنٹی خد ابھی معاف نہیں کرتا آج مذہبی عالم دنیاوی اقتدار دولت کا خواہش مند ہے وہ علم فروش ہے۔
قانون دان عدالتوں میں سائلین کی چمڑی اتارتے ہیں دکاندار رمضان میں مہنگائی کرے گا سیاستدان ذاتی مفادات کے تابع ہے عام آدمی محروم رہے گا جب موقع ملتا ہے تو وہ بھی کسی معاملہ سے نہیں چوکتا۔برفباری سخت سردی کے دنوں میں بھوکے بھیڑیئے گلے کی صورت میں گھومتے ہیں رات کو کسی جگہ ایک دوسرے کے قریب جسم کی حرارت سے ایک دوسرے کو گرم رکھتے ہیں مگر ہوتا کوئی نہیں اگر آنکھ لگ گئی تو دوسرے بھیڑیئے اسے چیر پھاڑ کر کھا جائیں گے اسے گرگر آشتی کہتے ہیں ہمارا معاشرہ بھی گرک آشتی ہے۔آصف زرداری بد عنوانی کے الزامات میں گیارہ سال جیل میں رہے گا پھر صدر بن جائے گا۔دوبارہ ہٹائے جانے کے باوجود نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے گا۔آصف زرداری کی سات جہانگیر ترین کی چودہ شوگر ملیں ہوں گی۔
29ارب کا روپیہ کا سبسڈی ملے گی ہوکوئی پرندے کی طرح چونچ سے پر صاف کر یگا۔بلی اپنے پنجہ کو زبان سے بگھو کر منہ پر ل کر اسے صاف کرے گی پلیدی مٹی میں چھپائے گی کہتے ہیں عذیر بلوچ نے198قتل کئے قومی اسمبلی میں اسی کا چرچا رہے گا۔قومی معاملات کہتے ہیں دس سال میں پی آئی اے کے گیارہ سربراہ تبدیل ہوئے۔امریکہ یورپی یونین نے ہماری فضائی کمپنی پر پابندی عائد کردی متحدہ عرب امارات ویت نام نے پاکستانی کمرشل پائلٹ فارغ کردیئے جعلی لائسنسوں کی تفتیش ہورہی ہے شیخ رشید کہتے ہیں ریلوے میں ایک لاکھ لوگ بھرتی کرینگے۔چیف جسٹس کہتے ہیں ریلوے میں پہلے سے77ہزارملازمین ہیں مزید ایک لاکھ کیا کریں گے محکمہ خسارے میں پوچھنے والا کوئی نہیں شیخ رشید کا میاب وزیر ہیں عمران خان کے دست راست۔
ملک میں کرونا سے5069افراد جاں بحق ہوئے ملک میں مہنگائی کی شرح دس فیصد ہے۔کراچی میں لوڈشیڈنگ،ندیم بابر کی مہنگی بجلی بیچنے والی آٹھ الیکٹرک کمپنیاں ہیں۔نیب میں 1226ریفرنس زیر التواء ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ نیب 120نئی عدالتوں میں تعیناتی کرتے۔بلوچستان صرف مستونگ ضلع میں 400جعلی ڈومیسائل منسوخ ہوئے۔بے روز گاری کی شرح 22%ہے صوبہ میں کرونا سے123اموات ہوچکی ہیں۔فضل آغا،مصطفی ترین،در محمد ناصر،آیت اللہ درانی گئے۔گونرر سندھ شیخ رشید،شاہ محمود قریشی کرونا ہوئے۔ملک میں ٹڈی دل ہے فخر امام کہتے ہیں میں نے سپرے کے لئے گیارہ جہاز مانگے ہیں کہاں سے آئیں گے بہت پہلے انگریزی گانا تھا ان دی لینڈ آف ڈریمزاٹ ازمنی ویٹ کانوٹی ڈیٹا استعمال ہوتا ہے۔زراعت ملکی مجموعی پیداوارGDPکا 36فیصد ہے ملک کی قریباً پچاس فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔روزگار کے نئے مواقع محدود ہیں۔
حکومت نے سرکاری محکموں میں گریڈ ایک سے سولہ تک گزشتہ ایک سال ہے۔خالی ایک لاکھ اسامیاں ختم کردی ہیں۔محکمہ سیاحت میں 650کروڑ کا خسارہ ہے350ملازم فارغ ہیں۔دنیا کے ممالک سیاحت سے زرمبادلہ کماتے ہیں۔پہلے 40سال سے افغان جنگ کی بدولت بدامنی رہی۔سیاحت کے لئے کو ن آتا۔شالیمار ایکسپریس چلی کہا بارہ گھنٹے میں کراچی سے لاہور جائیگی جدید سہولیات میں وہ بھی خسارہ میں بند کردی گئی چیف جسٹس کہتے ہیں دنیا میں بلٹ ٹرینیں چل رہی ہیں۔ہماری آج کی تحریرمیں کوئی نفسیات واردات قلبی نہیں کرونا ہے گھر پر رہیں بس ”افکار پریشان“ ہیں جسٹس محمد رستم کیانی کی کتاب کا نام افکار پریشان ہے۔مولانا ابو الکلام آزادنے جیل میں غبارہ خاطرلکھی۔آج کل ہمارے دوست انتخاب کے ایڈیٹر انور ساجدی افکار پریشان کے نام سے کالم لکھتے ہیں ہماری کھیتی اجاڑ ہے۔
سر ہے سودا سے تہی عشق سے دل خالی ہے۔
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں