بلوچستان حکومت جامعات کیلئے 10 ارب روپے مختص کرے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیراہتمام گزشتہ چار مہینوں کی تنخواہوں اور پنشنز و ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ اور ملازمین کو سالانہ بجٹ میں اعلان شدہ 35 فیصد اور منطور شدہ الاونسز کی عدم ادائیگی کے خلاف 38 ویں روز بھی جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا پروفیسر فرید خان اچکزئی کی صدارت میں ھوا احتجاجی دھرنے سے پروفیسر فرید خان اچکزئی، شاہ علی بگٹی، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، سیدشاہ بابر،پروفیسر شاہ محمد زرکون، محمد اسلم بنگلزئی اور حافظ عبدالقیوم شاہوانی نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو تنخواہوں و پنشنز سے محروم رکھنا غیرقانونی عمل ہے، صوبائی و مرکزی حکومت اور ایچ ای سی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں تنخواہوں اور پنشنز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائے، مقررین نے کہا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلی، گورنر و سول سیکرٹریٹ سمیت عدلیہ، پولیس اور فورسز کی تنخواہیں اور پنشنز کبھی بھی بند نہیں ہوتی لیکن جامعہ بلوچستان جیسے اہم تعلیمی ادارے کے اساتذہ، آفیسرز و ملازمین کو تنخواہوں اور پنشنز سے مسلسل محروم رکھے گئے ہیں۔ مقررین نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر جامعہ بلوچستان کی گزشتہ چار مہینوں کی تنخواہوں اور پنشنز کےلئے فنڈز جاری کرے اور مستقل حل کےلئے آنے والے سالانہ صوبائی بجٹ میں کم ازکم دس ارب روپے اور مرکزی حکومت ملک بھر کی جامعات کے لئے کم ازکم 500 ارب روپے مختص کریں۔ مقررین نے اعلان کیا کہ جمعرات کے روز بھی جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ سریاب روڈ پر احتجاجی کیمپ میں دھرنا دیگی اور جامعہ بلوچستان سے اڈہ چوک تک ریلی اور احتجاج کریگی جس میں جامعہ کےاساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین بھر انداز میں شرکت کریں گے اس ضمن میں پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا سمیت سول سوسائٹی کے ممبران سیاسی جماعتوں اور دیگر سے اس احتجاج میں شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں