واشک کا گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول کھنڈرات میں تبدیل

بسیمہ (نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقہ باغ سوپک کے عوامی حلقوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بدحالی پسماندگی لاچارگی اور بے بسی کا دوسرا نام بنا ہوا ہے گورنمنٹ بوائز مڈل سکول باغ سوپک کی مخدوش اوربوسیدہ عمارت نے ہمیں چونکا دیا بوسیدہ عمارت میں نہ پانی کا نظام موجود ہے نہیں کوئی فرنیچر بچوں کو بیٹھنے کے لیے ٹاٹ تک میسر نہیں ہے سرزمین باغ سوپک کے سکول کو آج تک کوئی کچا روڈ میسر نہیں خوبصورت پہاڑوں کے سنگم میں واقع علاقے کا سکول پہ نظر پڑتے ہی انسان سمجھ بیٹھتا ہے کہ میں افریقہ کے کوئی جنگل میں موجود ہوں اس اسکول کے نیچے تقریباً 250طلباءو طالبات پڑھتے ہیں یہ بوسیدہ عمارت نونہالوں کیلئے ایک خطرہ ہے جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتا ہے سکول کی عمارت تو اپنی جگہ اس میں ریڈنگ رائیٹنگ وفرنیچر اور درسی کتب پچھلے تین سالوں سے میسر نہیں۔اسکول میں تدریسی عملہ کی ریگولر تعداد صرف چھ اساتذہ ہیں باقی اساتذہ کا ہیڈ ماسٹر کو بھی پتہ نہیں کہ وہ کون ہے اور کہاں پہ ہے پچھلے تین سالوں سے کلسٹر ہیڈ اس سکول کو ایک مارکر اور پین تک نہیں دیا ہے ،اساتذہ اپنے خرچے پر سکول کو چلا رہے ہیں۔واضح رہے کہ اس وارڈ کا جنرل کونسلر اور کسان کونسلر دونوں نے یہ بھی بتائے کہ دو سال پہلے جب ہم نے کلسٹر سامان کے بابت دریافت کیاتو کلسٹر ہیڈ نے بتایا کہ ہمارے فرنیچر آور دیگر سامان گاڑی سمیت سندھ کے سیلاب کی نظر ہوگئے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نام نہاد تعلیمی ایمرجنسی اور محکمہ تعلیم میں اصلاحات کے دعوے داروں کی نظر اس اسکول پر نہیں پڑتا یا تو محکمہ کے اختیار داروں اور روایتی سیاست دانوں نے اپنے کرپٹ اور بگوڑے ملازمین کا پناہ گا بنایا ہوا ہے بدترین پسماندگی کے شکار باغ سوپک کو صرف اہل اختیار کی توجہ درکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں