پردہ عورت کی ڈھال ، معاشرے کی پاکیزگی کا ضامن ہے، پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی

کوئٹہ(یو این اے ) اللہ تعالی کے احکامات اور اس کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینے کیلئے پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان نے پاکستانی معاشرے میں اسلامی اقدار، شرم و حیا، عفت و عصمت اور غیرت و حمیت کے اوصاف کو فروغ دینے کیلئے خواتین میںپردہ اور حجاب کرنے کی اہمیت پر ایک سیمینار منعقد کیا۔جس کی صدارت پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے چیئرمین میاں نعیم الدین کی ۔سیمینار میں پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے صدر میاں قیصر نعیم اور سیکرٹری جنرل جاوید معراج سمیت دیگر عہدیداروں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کی جانب سے نوجوان لڑکیوں میں خانہ کعبہ سے مسک کئے ہوئے عبائے تقسیم کیے گئے۔پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے چیئرمین میاں نعیم الدین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پردہ اور حجاب عورت کی ڈھال ، معاشرے کی پاکیزگی اور تطہیر کا ضامن ، عورت کے حسن، اس کی نزاکت و شرافت ، اس کے فخر و امتیاز ، شرم و حیا ، شائستگی و وقار اور عزت و ناموس کا محافظ اور عورت کا ایک ایسا زیور ہے جو اس کی شخصیت کو پر وقار ، منفرد اور محفوظ بناتا ہے ۔ پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے صدر میاں قیصر نعیم کا کہنا تھا کہ پردہ اور حجاب اللہ کا حکم ہے،مغربی دنیا مسلمان عورت کے حجاب کو نشانہ بنا کر اس کے دینی اور انسانی حقوق میں دراندازی کر رہی ہے،بے پردہ معاشروں میں عورت کو محض تفریح طبع کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام نے پردہ ، حجاب اور حیا کے احکامات نافذ کر کے عورت کو معاشرے میں قابل احترام ہستی قرار دیکر محفوظ بنا دیا ہے۔پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے سیکرٹری جنرل جاوید معراج کا کہنا تھا کہ پردہ اور حجاب کسی طرح بھی خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ پردہ عورت کو تحفظ اوراعتماد فراہم کرنے کا ذریعہ ہے،دنیا بھر میں با پردہ اورباحجاب خواتین اپنے دائرہ کار میں باوقار طریقے سے کام انجام دیتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں