لورالائی یونیورسٹی کے طلبا کا احتجاج دوسرے روز میں داخل

لورالائی (یواین اے )شدید ترین گرمی میں لورالائی یونیورسٹی کے سامنے طلبا کی احتجاجی دھرنے کا آج دوسرا روز ہے، یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ طلبا کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کیلئے خاندانوں میں مسائل اور مشکلات پیدا کر رہے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ طلبا کے والدین اور رشتہ داروں کو ٹیلی فون کر کے ان کے شکایتیں کر رہے ہیں، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی لورالائی کے ضلعی سیکرٹری مصطفی کمال کاکڑ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبا کیلئے یونیورسٹی میں اور خاندانوں میں مشکلات پیدا کرنے کی سازشی اور تعلیم دشمن عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اس شدید گرمی اور تعلیم و پڑھائی کے موسم میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کو احتجاج اور دھرنے پر مجبور کر لیا ہے، لورالائی یونیورسٹی کے سامنے دن رات طلبا کی احتجاجی دھرنا جاری ہے،لورالائی یونیورسٹی میں طلبا بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات سے یونیورسٹی انتظامیہ نے محروم کر دیئے گئے ہیں اور طلبا کیلئے بنائی گئی ہاسٹل میں یونیورسٹی کی ملازمین رہ رہے ہیں،لورالائی یونیورسٹی حالیہ اور گزشتہ انتظامی افسران کی وجہ سے تباہی اور بربادی کی جانب دکھلا جا رہا ہے، کرپشن، اقربا فروری، تعلیم دشمنی اور طلبا دشمنی زوروں پر ہے، لورالائی یونیورسٹی کے حوالے سے گورنر بلوچستان، وزیر اعلی بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لورالائی یونیورسٹی کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دیں اور آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کرکے ملوث عناصر کو سزا دی جائے،

اپنا تبصرہ بھیجیں