فیڈریشن کا مقصد یہ نہیں کہ صوبوں کو غلام بنائیں، بلوچستان میں کوئی دہشتگرد موجود نہیں ،لوگ اپنے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں، اسد اللہ بلوچ

کوئٹہ( این این آئی) بلو چستان نیشنل پارٹی ( عوامی) کے سر براہ و رکن بلو چستان اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلو چستان کے مالی سال 2024-25کا بجٹ محکمہ پی اینڈ ڈی میں بننے کی بجائے وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ میں بنایا گیا جس کا علم چیف سیکر ٹری بلو چستان سمیت کسی بھی سیکر ٹری کو نہیں تھا ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر بجٹ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہی بناناتھا تو محکمہ پی اینڈ ڈی کی کیا ضرورت ہے؟۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی، رکن بلو چستان اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بلو چستان کے مالی سال2024-25کا بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ پی ایس ڈی پی 47 کا بجٹ ہے، فارم47 کی پی ایس ڈی پی کسی صورت قابل قبول نہیں ہم غلامیت سے پاک بلوچستان کے چاہنے والے ہیں فیڈریشن کا مقصد یہ نہیں کہ صوبوں کو غلام بنائیں نیٹو نے 28 ملکوں کے ساتھ مل کر ظلم کیا لیکن افغانستان قائم ہے۔ انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ سے پہلے بلوچستان کے حالات بہتر نہیں تھے لیکن نواب اسلم رئیسانی کی کاوشوں سے این ایف سی ایوارڈ کے زریعے صوبے میں کچھ بہتری آئی آئین پاکستان میں صاف لکھا ہے کہ ہر 5سال بعد این ایف سی ایوارڈکی میٹنگ ہوگی این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ نہ ہونا نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ وفاق کی ناکامی بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے رقبے کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم کی جا تی تھی جس سے بلوچستان کا حصہ زیادہ بنتا تھاسانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد حکمرانوں نے چالاقی سے رقبے کی بجائے آبادی کے لحاظ سے ہر وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار شروع کیاپنجاب نے جعلی طریقے سے مردم شماری میں آبادی میں اضافہ کیا وفاقی بجٹ میں آبادی کی وجہ سے اور اس کے بعد وزیر اعظم پنجاب کا ہونے کی وجہ سے بجٹ زیادہ تروہاں خرچ ہوتا ہے اس ملک کی مانند جنگل کی ہے یہاں کوئی قانون نہیں صرف اور صرف استحصالی نظام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مرکز کا بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے وفاقی وزیر خزانہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ بجٹ میں 8 ہزار ارب روپے خسارے کا ہے مرکز نے ہمیشہ بلو چستان کے ساتھ زیادتی کی ہے سی پیک کا پہلا فیز56 بلین ڈالر کا تھا جس میں بلوچستان کو ترقی دینی تھی لیکن سی پیک کے ذریعے بلوچستان کے تمام منصوبے پنجاب میں لگائے گئے ریاست سے پوچھنا چاہتے ہیں جب بلوچستان کی سر زمین ہمارے اکابرین نے تلوار کے زور سے لی تب آپ کہا ںتھے؟،اگر بلوچستان میں امن چاہتے ہیں تو سی پیک فیز ٹو گوادر سے شروع ہونا چاہیے سی پیک اگر لاہور سے شروع ہوگا تو ہم نہیں مانیں گے گوادر کے لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں کوئی دہشتگرد موجود نہیں یہاں کے لوگ اپنے حقوق کیلئے جنگ لڑرہے ہیںپشتون اور بلوچوں کا قتل عام بند کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے بجٹ میں امان و امان کیلئے رکھے گئے پیسے یونیورسٹیاں بنانے میں لگائیںپنجاب میں یونیورسٹیاں بن رہی ہیں اور ہمیں یہاں گھروں سے اٹھایا جاتا ہے کتنے بلوچ ماریں گے ہر گھر سے ایک بلوچ نکلے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق بجٹ محکمہ پی اینڈ ڈی بناتا ہے لیکن اس بار بجٹ سی ایم سیکرٹریٹ میں بنایا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی سے پوچھتا ہوں اگر بجٹ سی ایم سیکرٹریٹ میں بنانا تھا تو محکمہ پی اینڈ ڈی کی کیا ضرورت ہے بلوچستان کے بجٹ کے بارے میں چیف سیکرٹری اور سیکرٹریز کو علم بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بجٹ سے پنجگور کی اسکیمات کاٹی ہیںموجودہ بجٹ میں میرے حلقے کی ایک اسکیم بھی نہیں رکھی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اپنے حلقے کیلئے 16 ارب روپے رکھے ہیںجبکہ صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے اپنے حلقے کیلئے 7 ارب روپے کی اسکیمات رکھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 15لاکھ ہے اوربلوچستان میں 60 ہزار استاتذہ میں سے 15 ہزار اساتذہ گوسٹ ہیںجبکہ بلوچستان میں 7 ہزار انجینئر بیروزگار ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے 75 فیصد عوام روٹی سے محروم ہیں بلوچستان کے نام پر لئے گئے پیسے پنجاب پر خرچ کئے گئے ایسا لگتا ہے کہ بلو چستان کے کے عوام یتیم ہے وزارتیں جب بیچی جائیں گی تو عوام کا سیکرٹریٹ جانا کیا معنی رکھے گا بلو چستان میں اپنے حق کی بات کرنے والے کو دہشتگرد کا لقب دیا جاتا ریاست ماں جیسی ہوتی پنجگور کے عوام کا قصور ہے جو انکو دیوار سے لگایا جارہا ہے ریاست کو عوامی مینڈنٹ کا احترام کرنا چاہیے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے التجا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت کے نام پر دھندے کئے جارہے ہیں ، ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ زمینداروں کو قرضہ اور200یونٹ بجلی مفت فراہم کی جائے،بلوچستان کے 10 ہزار طالب علموں کو بین الاقوامی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجاجائے اوربلوچستان کے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں ، رکن صوبائی اسمبلی اسد اللہ بلوچ نے کہاکہ جنہیں بلوچستان کے اضلاع کا علم نہیں وہ بجٹ بنا رہے ہیںبندوق کی نوک نیچے کرکے ڈائیلاگ کے زریعے بات کی جائے بلوچستان کے مظلوم عوام کے حقوق کے حصول کے لئے جدو جہد جاری رکھیں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے صحافیوں کے لئے زمین الاٹ کی جائے اور وہاں تمام سہولیات میسر ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں