ایڈہاک تعیناتیوں کی بنیاد پر ڈاکٹرز کا استحصال ہو رہا ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
کوئٹہ(یو این اے )ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان صبور کاکڑنے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ محکمہ صحت کی سنجیدگی اور اہلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فروری اور مارچ میں ختم ہونے والے ایڈہاک ایکسٹنشن کی محکمانہ کارروائی تا حال مکمل نہ ہو سکی، تنخواھ نہ ملنے کی وجہ سے ڈاکٹرز ذہنی دبا کا شکار ہو رہے ہیں فروری اور مارچ کے چھ مہینے کا ایکسٹنشن کا نوٹیفکیشن چھ مئی کو ہوا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ نہ تو اس نوٹیفکیشن کے لئے اپروول لی گئی تھی نہ کوئی منٹس آف میٹنگ تیار کئے گئے تھے، جس کی وجہ سے ڈاکٹرز کی تنخواہ کا اجرا تا حال ممکن نہیں ہو سکا جبکہ یہ ایڈہاک جولائی کے مہینے میں ایکسپائر ہو جائیگا محکمہ صحت کی اسی غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے روز اول سے ایڈہاک تعیناتیوں کے کلچر کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیںترجمان نے کہا کہ ایڈہاک تعیناتیوں کی بنیاد پر ڈاکٹرز کا استحصال ہو رہا ہے بلوچستان کے تین نئے میڈیکل کالجز میں ٹیچننگ فیکلٹی کےری ویری فیکیشن کے نام پر تنخواہوں کے بندش کی پررزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں دسمبر 2020 میں اس وقت کی کابینہ کی منظوی کے بعد ایڈہاک پر تعیناتی کا جو عمل شروع ہوا تھا اسے چار سال بعد غیر قانونی قرار دے کر فائنانس ڈیپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سینکڑوں ڈاکٹروں کی تنخوائیں بند کردی ترجمان نے کہا کہ محکمہ صحت میں مند پسند افراد کو انکی مرضی کے پوسٹنگ اور زمہ داریاں کمیشن اور یہ کرپشن کی بنیاد پر دیئے جانے کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں جس کی وجہ سے محکمہ صحت کے اعلی عہدیداران کی ڈپارٹمنٹ کے باقی کاموں میں عدم دلچسپی کی وجہ سے ڈاکٹرز اور باقی طبی عملے کے کام سست روی کا شکار ہو گئے ہیںترجمان نے مزید کہا کہ ناقص حکومتی پلاننگ کی وجہ سے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے تحت پچھلے پانچ سالوں میں تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی لیکن مسائل سے منہ چھپانے کے مترادف ایڈہاک تعیناتیوں کو مسائل کا حل سمجھنے والے احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعیناتی کے لئے جلد از جلد اقدامات کیے جائے ترجمان نے کہا کہ وزیرِ اعلی بلوچستان ، وزیرِ صحت ، سیکریٹری صحت اور دیگر عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ اگر ڈاکٹرز کو درپیش مسائل کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وائی ڈی اے بلوچستان ڈاکٹرز کے حقوق کے حصول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے. محکمہ صحت مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے، آیندہ 48 گھنٹوں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی صوبائی کابینہ کا اجلاس بلا کر صوبہ بھر میں سروسز کے بائکاٹ سمیت دگر آپشنز پر غور کیا جائے گا۔


