افغان فورسز کی فضائی کارروائی میں 45 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت
امریکہ نے افغانستان کے صوبے ہرات میں افغان ایئر فورس کی فضائی کارروائی میں 45 افراد کی ہلاکت کی مذمت کی ہے جب کہ اس واقعے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 24 گھنٹے انتہائی پرتشدد رہے اور اس دوران کئی افراد ہلاک ہوئے۔
جمعرات کی صبح ٹوئٹر پر اپنی متعدد ٹوئٹس میں خلیل زاد نے کہا ہے کہ ہرات میں افغانستان کی فورسز کی فضائی کارروائی میں کئی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل تھے۔
ان کے بقول ہلاکتوں کی تصدیق جائے واقعہ کی منظرِ عام پر آنے والی تصاویر اور عینی شاہدین کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کی شب افغانستان کی ایئر فورس نے ہرات میں ایک فضائی کارروائی کی تھی جس میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے اہم کمانڈر شامل ہیں۔
مشرقی صوبے ہرات کے ضلع ادرسکان کے گورنر علی احمد فقیر یار نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو میں فضائی کارروائی کی تصدیق کی ہے جس میں ان کے بقول 45 افراد ہلاک ہوئے۔ ضلعی گورنر کے مطابق مرنے والوں میں طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔
ضلعی گورنر کے بقول حملے میں اب تک آٹھ عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والے دیگر 37 افراد میں طالبان کے جنگجو کتنے ہیں۔
افغان وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج عوام اور شہریوں کے سامنے لائے جائیں گے۔
مقامی حکام نے فضائی حملے میں ہلاکتوں کے ساتھ بڑی تعداد میں شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔امریکہ کی افغانستان میں تعینات فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج اس فضائی کارروائی میں شریک نہیں تھی۔
جمعرات کو اپنے بیان میں امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ طالبان کے حالیہ حملوں میں افغان شہریوں کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان کے عوام فوری طور پر امن مذاکرات کے آغاز کے خواہاں ہیں جب کہ افغان تصفیے کا پر امن حل ہی عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔ان کے بقول مزید قبریں مذاکرات کو آگے لے کر نہیں جائیں گی۔
امریکہ کے نمائندۂ خصوصی نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات اب بہت قریب ہیں اس لیے فریقین تشدد میں کمی لائیں جب کہ عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔
‘رائٹرز’ کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان قاری محمد یوسف احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے ہرات میں دو بار فضائی حملے کیے جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ مقامی حکام نے بھی فورسز کی دو بار فضائی کارروائی کرنے کی تصدیق کی ہے۔
وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اسد اللہ خالد نے ایک اجلاس میں دعویٰ کیا ہے کہ وزارتِ دفاع کے پاس ایسی ویڈیو موجود ہے جس میں واضح نظر آ رہا ہے کہ طالبان اس مقام پر موجود ہیں۔


