کیئر اسٹارمر نے برطانوی وزارتِ عظمی کا عہدہ سنبھال لیا،چھ پاکستانی نژاد ممبر پارلیمنٹ منتخب

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیئر اسٹارمر نے وزارتِ عظمی کا عہدہ سنبھال لیا ہے، انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیئر اسٹارمر نے وزارتِ عظمی کا عہدہ سنبھال لیا ہے اس کے ساتھ ہی کنزرویٹو کا 14 سالہ طویل اقتدار ختم ہوگیا ہے۔جمعے کو برطانوی فرماں روا چارلس سوم سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کے بعد کیئر اسٹارمر نے وزارتِ عظمی کی ذمے داریاں سنبھالیں۔ اس موقعے پر سرکاری رہائش گاہ 10 ڈاننگ اسٹریٹ پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ میں ابھی برمنگم پیلس سے واپس آیا ہوں، میں نے ملک میں حکومت بنانے کی دعوت قبول کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں برطانیہ کا قائدانہ کردار بحال کرائیں گے۔ ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد میں کمی کا ازالہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا پڑیں گے۔ عوام نے تبدیلی کے لیے واضح فیصلہ سنایا ہے۔ٹین ڈاننگ اسٹریٹ میں قوم سے اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کی حکومت ہر شہری کو احترام کی نظر سے دیکھے گی، میری حکومت عوام کی خدمت کریگی۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت ان لوگوں کی بھی خاص طور پر خدمت کرے گی جنہوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا، ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم رشی سوناک کو خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے ملک کے پہلے برطانوی ایشیائی وزیر اعظم تھے، ہم ان کے عزم اور کاوشوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک نے تبدیلی کے لیے فیصلہ کن ووٹس دیے۔برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، برطانیہ کوایک بارپھر رہنمائی کرنے والا ملک بنائیں گے۔برطانیہ میں 4 جولائی 2024 کو ہونے والے انتخابات میں لیبر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل ہے جس کے بعد پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر رشی سوناک کی جگہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔لیبر پارٹی نے پارلیمنٹ کی 650 نشستوں میں سے ہاوس آف کامنز میں 410 سیٹیں حاصل کی ہیں جب کہ کنزرویٹو پارٹی نے 118 نشستیں جیتی ہیںدوسری جانب برطانوی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی لیبر پارٹی سے منسلک چھ پاکستانی نژاد بھی ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ چھ برطانوی نژاد پاکستانی لیبر پارٹی کی پالیسیوں پر کتنے اثر انداز ہوں گئے ، کیئر اسٹارمر کی قیادت میں کیا بر طانیہ غزہ جنگ بارے اپنی پالیسی تبدیل کرے گا؟ کامیاب ہونے والے ان چھے امیدواروں نے غزہ جنگ میں برطانوی حکومت کی پالیسی کی مخالفت کی تھی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے عمران حسین نے بریڈ فورڈ ایسٹ سے 14 ہزار 98 ووٹ لیے، جبکہ ان کے مخالف آزاد امیدوار طلعت سجاول نے سات ہزار 909 ووٹ حاصل کیے۔ اس حلقے میں ٹرن آٹ 49.5 فیصد رہا جو 2019 کے الیکشن کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہے۔عمران حسین نے جیت کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ چھ ہفتوں کی الیکشن مہم کے بعد مجھے خوشی ہے کہ بریڈ فورڈ ایسٹ کے لوگوں نے ایک بار پھر مجھ پر اعتماد کیا ہے اور مجھے دوبارہ اپنا رکن پارلیمنٹ منتخب کیا ہے۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی ناز شاہ نے لیبر پارٹی کی سیٹ پر بریڈ فورڈ ویسٹ سے الیکشن میں حصہ لیا اور معمولی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 11 ہزار 724 ووٹ لیے، جبکہ ان کے مخالف محمد علی اسلام نے 11 ہزار 17 ووٹ حاصل کیے۔اس سے قبل ناز شاہ 2015 کے عام انتخابات میں بریڈ فورڈ ویسٹ کے لیے رکن پارلیمان کے طور پر منتخب ہوئی تھیں اور انہوں نے ریسپیکٹ پارٹی کے جارج گیلوے سے سیٹ جیتی تھی۔ ناز شاہ نے 2018 سے 2023 تک اپوزیشن کے فرنٹ بینچ میں خدمات انجام دیں۔لیبر پارٹی کی یاسمین قریشی نے الیکشن میں چوتھی مرتبہ کامیابی سمیٹی ہے۔انہوں نے جیت کے بعد ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ دوبارہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ بولٹن اور والکڈن کے عوام کا مجھ پر اعتماد کا شکریہ۔ مجھے فخر ہے کہ بولٹن نے لیبر کے اراکین کو منتخب کیا ہے۔ تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔یاسمین قریشی ایک پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان اور بیرسٹر ہیں جنہوں نے 2010 سے 2024 تک بولٹن ساتھ ایسٹ کے لیے رکن پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کوسوو میں اقوام متحدہ کے مشن کے فوجداری قانونی سیکشن کی سربراہی کی، جہاں وہ بعد میں جوڈیشل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر رہیں۔لیبر پارٹی کے زبیر احمد نے گلاسگو ساتھ ویسٹ سے ایس این پی کے کرس سٹیفنز کو 15 ہزار 552 ووٹ لے کر ہرایا۔ کرس سٹیفنز نے 12 ہزار 267 ووٹ لیے۔ گلاسگو ساتھ ویسٹ میں 51.98 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ لیبر پارٹی کی نوشابہ خان نے میڈ وے میں سیٹ حاصل کی ہے۔ نوشابہ خان 15ہزار 562 ووٹ لے کر علاقے کی نئی رکن اسمبلی منتخب ہوئیں،لیبر پارٹی کی روزینہ ایلن خان نے لندن سے 29 ہزار 209 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی ہے۔ لندن کے ٹوٹنگ سے جیت کر اپنی نشست برقرار رکھی اور علاقے میں ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا۔ روزینہ ایلن خان کی صحت کی دیکھ بھال پر مسلسل توجہ اور این ایچ ایس ڈاکٹر کے طور پر ان کے کام کے باعث انہیں ووٹرز سے مسلسل اعتماد حاصل ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں