حب، ساکران، گڈانی اور مضافات میں موسلا دھار بارش، نکاسی آب کا ناقص نظام، امراض پھیلنے لگے
حب (نمائندہ انتخاب) حب شہر سمیت مضافاتی علاقوں ساکران اور گڈانی میں گزشتہ تین دنوں سے ہلکی بارش کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات گئے تیز موسلادھار بارش اور جمعہ کے دن بھی وقفے وقفے سے جاری ہلکی بارش کے بعد معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں گزشتہ رات گئے ہونے والی بارش سے قبل ہی ہلکی بارش جبکہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ہونے والی بارش کے بعد حب شہر کے قریب بھوانی کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ زیر آب آگئی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے اسی طرح سے حب شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں سڑکیں گلیاں کیچڑ سے بھر چکی ہیں اور مختلف علاقوں میں بارش کا پانی تالاب بن کر کھڑا ہے شہری علاقوں میں سیوریج کے مین ہولز ا±بل رہے ہیں جسکی وجہ سے شہریوں کا گھروں سے باہر نکلنا محال ہو کر رہ گیا ہے حب شہر میں نکاسی آب کے حوالے سے اوپن ڈرین سسٹم کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی بارش کے کھڑے پانی کے اخراج کیلئے ابھی تک کوئی بندوبست ہو سکا ہے گلی محلوں میں کھڑابارش پانی مچھروں کی افزائش نسل کا باعث چکا ہے جسکی وجہ سے پورے شہر میں ملیریااور ڈینگی بخار وبائی صورت اختیار کرچکا ہے اور ان امراض سے متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے دوسری جانب محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان کا الرٹ بھی جاری کردیا ہے جس سے مزید طوفانی بارشوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے لیکن حب ساکران گڈانی اور وندر ڈام سونمیانی کے علاقوں میں حب کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک رین ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی اقدام سامنے نہ آسکا ہے انتظامی افسران اپنے دفتروں تک محدود ہیں ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے حب ڈیم میں مزید پانی کی 1فٹ پانی کی گنجائش رہ جانے کی خبر سامنے آئی ہے اور مزید بارشوں کی صورت میں ڈیم کے اسپیل وے سے پانی کے حب ندی میں اخراج کا عندیہ دیا گیا ہے اس صورتحال میں حب ندی مہندم پل کا NHAکا بنایا گیا متبادل راستہ پہلے ہی معمولی بارش کے ریلے کی نذر ہو چکا ہے جبکہ دوسرے کچے اور ناہموار راستے سے ندی میں پانی کے اخراج کے بعد طغیانی کی صورتحال میں وہ راستہ بھی بند ہونے کے خدشات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا سکتا اسی طرح سے حب کے مضافاتی علاقوں اور بالخصوص قومی شاہراہ کے اطراف میں قائم ہونے والی ہاﺅسنگ سوسائٹیز اور تجارتی مراکز کے سبب قدرتی آبی گزر گاہوں کے راستے بند ہونے سے نہ صرف نقصان کا اندیشہ ہے بلکہ کئی مضافاتی علاقوں کا شہروں سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہونے کے خدشات ہیں حب انتظامیہ صرف سوشل میڈیا پر فوٹو سیشن اقدامات کے تحت اپنی واہ واہ کرانے میں مصروف عمل ہے اور اوپر بالا اتھارٹیز کو مطمئن کیا جارہا ہے جبکہ زمینی حقائق ان فوٹو سیشن اقدامات کے برعکس ہیں شہر میں ملیریا اور ڈینگی بخار کی وبا پھیل چکی ہے دو ہفتے قبل ڈینگی کے حملے میں دو بچے جان کی بازی ہار گئے لیکن اسکے باوجود ابھی تک نہ تو ضلعی انتظامیہ اور نہ ہی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی اقدامات سامنے آسکا ہے نہ مچھر مار اسپرے کیا جارہا ہے اور نہ ہی متاثرہ علاقوں سے نکاسی آب کا کوئی بندوبست کیا جارہا ہے اسی طرح سے حب شہر میں بجلی کا نظام پہلے ہی درہم برہم ہے لیکن حالیہ معمولی بارشوں کے دوران اس میں مزید پیچیدگیاں آگئی ہیں ہلکی بوندہ باندی کی صورت میں بھی کئی کئی گھنٹے پورے شہر کا بلیک آﺅٹ کردیا جاتا ہے جس سے بالخصوص رات کے وقت شہر یوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


