ایک دفعہ پھر بلوچ نوجوانوں کو قتل کرنے کے لائسنس جاری ہوچکے ہیں، نذیر بلوچ

کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیربلوچ نے کہا ہے بلوچ نسل کشی کو تیز کرکے اب پنجاب میں بلوچوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا خاران سے تعلق رکھنے والے نوجوان منظور بلوچ کو پنجاپ میں جس بے دردی اور ظلم سے شہید کیا گیا اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ ایک دفعہ پھر بلوچ نوجوانوں کو قتل عام کرنے لائنسس جاری ہوچکے ہے اب تک پنجاب میں ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی نہ ہی بلکہ سرکاری سطح پر واقعے پر دبانے کی سازش ہورہی ہے اسی طرح بلوچستان میں سیاسی و شعوری قدغن کے تحت بلوچستان حکومت کے سرپرستی میں قتل عام کا سلسلہ مزید تیز کردیا گیا یے بارکھان سے تعلق رکھنے والے صحافی و سماجی کارکن انور کھیتران کو بے دردی سے شہید کیا گیا جسکا مقصد صرف باشعور آواز کو دبا کر بلوچستان میں فرسودہ سرکاری قبائلی نظام کے زریعے ڈیتھ اسکواڈ اور اسکے کارندوں کا مضبوط کرکے باشعور فکر و سوچ کے خلاف خوف و ہراس قائم کرنا ہے بارکھان میں گذشتہ سال بھی ایک ایسا دلخراش واقعہ پیش آیا تھا جسمیں ایک آٹھویں جماعت طالب علم جلیل بلوچ، اور 5 سالہ بچی سائرہ بلوچ کو شہید کیا گیا احتجاج کے باوجود حکومت ٹھس سے مس نہیں ہوئی آج وہی سلسلہ ایک صحافی کے صورت میں درپیش آیا انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایسے واقعات کے کا مقصد ان ہی سازشوں کا تسلسل یے جسکے تحت بلوچستان کو کالونی کے طرز پر چلا کر وسائل کی لوٹ مار کرنا ہے تاکہ شعور یافتہ لوگوں کو راستے سے ہٹا کر سیاسی و مثبت سرگرمیوں کو روکا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں