سبی ٹیچنگ اسپتال میں عملے کی مبینہ غفلت سے بچی جاں بحق

سبی(یو این اے )سبی کے ٹیچنگ اسپتال میں عملے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ایک بچی جاں بحق ہو گئی بچی کے والد نے الزام عائد کیا کہ بچی کو سول ہسپتال میں داخلے کے لیے لایا گیا تھا، مگر وہاں کا عملہ نہایت غیر تربیت یافتہ اور غیر پروفیشنل تھاوالد کا کہنا تھا کہ اسپتال میں عملے کو انکیوبیٹر تک چلانے میں بھی دشواری پیش آ رہی تھی اور بچی کی طبیعت بگڑنے پر کسی ڈاکٹر نے اس کا معائنہ نہیں کیا انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ رات کے وقت اسپتال میں کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں ہوتا اور نوعمر ٹرینی لڑکے مریضوں پر تجربات کرتے ہیںاس کے علاوہ، بچی کے والد نے بتایا کہ اسپتال میں ادویات کی کمی ہے، یہاں تک کہ ایک پیناڈول کی گولی تک دستیاب نہیں تھی انہوں نے کہا کہ سبی ٹیچنگ اسپتال کی عمارت اب ایک پتھروں کی جگہ بن چکی ہے، جہاں علاج معالجے کی سہولت ختم ہو چکی ہے والد نے مزید کہا کہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ڈاکٹرز اور عملے کی تعیناتی کے باوجود اسپتال میں ڈاکٹرز کی غیر موجودگی، ایم ایس سبی کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہے انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان، وزیر صحت، چیف سیکریٹری، ڈی جی ہیلتھ، سیکریٹری ہیلتھ اور ایم این اے سبی میاں خان بگٹی سے مطالبہ کیا کہ سبی ٹیچنگ اسپتال کے ایم ایس، ڈیوٹی ڈاکٹر اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایم ایس سبی کو فورا ٹرانسفر کیا جائے۔والد کا مطالبہ: بچی کے والد نے وزیر اعلی بلوچستان، وزیر صحت، چیف سیکریٹری، ڈی جی ہیلتھ اور ایم این اے سبی سے مطالبہ کیا کہ متوفی بچی کے والد کے مقدمے کو فوری طور پر سنجیدہ لے کر ان اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں