بلوچستان، سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز کا بائیکاٹ پانچویں روز بھی جاری، مریضوں کومشکلات کا سامنا

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کی ہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہڑتال کے باعث سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور نان ایمرجنسی آپریشن تھیٹر سروسز معطل ہیں، جس کی وجہ سے مریض علاج کے لیے پریشان ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کی بندش سے غریب طبقہ شدید متاثر ہوا ہے، کیونکہ وہ نجی اسپتالوں میں مہنگا علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جانے تک ہڑتال جاری رہے گی۔ الائنس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، اور حکومت کو فوری طور پر ان کے مسائل حل کرنے چاہییں۔دوسری جانب، محکمہ صحت بلوچستان نے ہڑتالی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ محکمہ کے مطابق، ہڑتال کرنے والے 29 ڈاکٹروں اور فارماسسٹس کو شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہڑتال کے ذمہ داروں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے حکومت اور ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کریں تاکہ اسپتالوں کی معمول کی خدمات بحال ہو سکیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صحت جیسی بنیادی سہولتوں پر سیاست کرنا افسوسناک ہے اور حکومت اور طبی عملے کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے چاہییں۔یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو رہی ہے، جب بلوچستان کے دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کو علاج کے لیے کوئی متبادل سہولت دستیاب نہیں ہے۔ عوام کی جانب سے اس ہڑتال کے فوری خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں