بلوچستان کی جامعات میں اساتذہ اور اسٹاف نے یوم سیاہ منایا، صوبائی بجٹ پیش کرنے کے موقع پر شدید احتجاج کا اعلان

کوئٹہ (پ ر) فپواسا بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی جانب سے 16 جون کو FAPUASA کی مرکزی کال پر جامعہ بلوچستان سمیت صوبے کی دیگر جامعات میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ کرام اور اسٹاف نے احتجاجاً ہاتھوں پر کالی پٹیاں باندھ کر کلاسز لیں اور دفاتر میں کام کیا۔ اس موقع پر یوم سیاہ منانے والے اساتذہ اور اسٹاف سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فرید خان اچکزئی، پروفیسر رحمت اللہ اچکزئی، پروفیسر مسعود مندوخیل اور ارباب رضا کاسی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور ایچ ای سی کے لئے صرف 65 ارب روپے مختص کیے جو 2018ءسے وفاقی حکومت 65 ارب روپے رکھتے آرہے ہیں حالانکہ 2018ءمیں وفاقی حکومت کا ٹوٹل بجٹ 5000 ارب تھا جبکہ اب 18000 ارب روپے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹیوں کیلئے وفاقی بجٹ میں 200 بلین اور صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ میں کم ازکم 15 بلین روپے مختص کیے جائیں، 25 فیصد ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کا نوٹیفکیشن کا فوری اجراءاور صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاﺅنسز کے خاتمے کا غیرقانونی نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر بلوچستان اسمبلی کے سامنے 17 جون کے احتجاج کے لیے یونیورسٹی آف بلوچستان، بیوٹمز، وومن یونیورسٹی کے اساتذہ اور اسٹاف صبح 30۔11 لاءکالج کوئٹہ میں جمع ہوں گے اور 12 بجے جلوس کی شکل میں بلوچستان صوبائی اسمبلی جائیں گے، قومی اسمبلی کے سامنے 19 جون کو بھرپور مظاہرہ ہوگا لہٰذا بھرپور طریقے سے احتجاج میں شرکت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں