پی ٹی آئی کے استعفے صرف اعلان تک محدود، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین سرکاری مراعات سے استفادہ کررہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے کے فیصلے کے باوجود دو اہم چیئرمین تاحال اپنے عہدوں پر قائم ہیں، جبکہ باقی چھ چیئرمین بھی بدستور سرکاری مراعات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ سینیٹ سیکرٹریٹ ذرائع کے مطابق نہ صرف بعض استعفے رسمی طور پر جمع نہیں کروائے گئے بلکہ جنہوں نے استعفے دیے بھی، انہوں نے اب تک سرکاری گاڑیاں، دفاتر اور دیگر سہولیات واپس نہیں کیں۔ ذرائع سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی طرف سے سینیٹ کی آٹھ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے استعفوں کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم صرف چھ کے استعفے ہی پارلیمانی لیڈر کے ذریعے جمع کرائے گئے۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے تاحال استعفیٰ نہیں دیا۔ سینیٹ ذرائع کے مطابق جمع کرائے گئے چھ استعفوں میں فیصل سلیم اور سیف اللہ ابڑو کے استعفے شامل نہیں تھے، جبکہ باقی چھ چیئرمینوں نے اگرچہ استعفیٰ دیا ہے، لیکن وہ بدستور سرکاری مراعات حاصل کر رہے ہیں۔سینیٹ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کسی بھی مستعفی چیئرمین نے سرکاری گاڑی یا سٹاف واپس نہیں کیا ، نہ ہی سینیٹ سیکرٹریٹ کو مراعات سے دستبرداری کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر تنقید کے باوجود اب بھی سرکاری گاڑی استعمال کر رہے ہیں، جب کہ توانائی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز اور پارلیمانی امور کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند نے بھی سرکاری سہولیات واپس نہیں کیں۔اسی طرح، قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین سینیٹر عون عباس، سینیٹر ذیشان خانزادہ اور سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور بھی اب تک کمیٹی چیئرمین کی حیثیت سے حاصل مراعات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سینیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ جمع کرانا محض علامتی قدم نہیں، بلکہ اسے عملی طور پر اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے، جس میں مراعات کی واپسی بھی شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں