بلوچستان میں علیحدگی کی نام نہاد تحریکیں بلوچ عوام کو بند گلی میں دھکیل رہی ہیں، لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 17 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں شورش نہیں بلکہ علیحدگی کی نام نہاد تحریکیں ہیں۔ ملک دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے۔ دشمن پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کا غلط تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ ناراض بلوچ کی اصطلاح دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی۔ جو شخص بندوق کے زور پر تشدد کرے وہ ناراض نہیں بلکہ دہشت گرد ہے۔ بلوچستان میں پہلا فراری کیمپ 21 جون 2002 کو قائم کیا گیا، جس سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔ سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے۔ حکومت نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے جامعات اور ہر فورم پر جا رہی ہے۔ بلوچستان کے حالات کی خرابی کے پیچھے بھارتی ایجنسی “را” کا واضح کردار ہے۔ علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ سیاست سے زیادہ اہم ریاست پاکستان ہے۔ بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے۔ دہشت گردی سے متعلق حکومت بلوچستان کا مو¿قف دوٹوک اور واضح ہے۔ بلوچ عوام کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے، لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ گورننس کی بہتری اور اصلاحات کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ صحت و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری سامنے آرہی ہے۔ صوبے میں 3200 غیر فعال اسکولز اور 164 بنیادی طبی مراکز کو فعال کیا گیا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کی استعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سی ٹی ڈی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کر دیے گئے۔ سیکورٹی فورسز ایسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔ واضح دشمن کے خلاف کارروائی آسان، اندرونی صفوں میں موجود دشمن سے نمٹنا زیادہ مشکل ہے۔ واضح دشمن کے خلاف حالیہ کارروائی پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ بلوچستان کے 24 ذیلی اضلاع میں گزشتہ 12 برسوں سے اسسٹنٹ کمشنرز تعینات نہیں تھے۔ موجودہ حکومت نے افسران کی تعیناتی کرکے ریاستی رٹ کو بحال کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں