آغاز حقوق بلوچستان پیکج، ایچ ای سی کا نوابزادہ جمال رئیسانی کو خط، 190 اسکالر شپس دینے کا انکشاف، 410 پوری نہیں ہوئیں
اسلام آباد (انتخاب نیوز) آغاز حقوق بلوچستان پیکج میں گزشتہ دس ماہ سے غبن کی خبریں گردش کررہی ہیں، بہت سے اسکالرز کی بنا کسی قانونی وجہ اپنی اسکالر شپس کی منسوخی کی شکایات ہیں۔ اس سلسلے میں نوابزادہ جمال رئیسانی نے بطور ممبر قومی اسمبلی ایچ ای سی کے عہدیداروں کو خط لکھا اور معلومات طلب کیں۔ اس کے جواب میں ایچ ای سی کے عہدیدار در شاہوار عامر نے بذریعہ خط یہ انکشاف کیا کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے وہ 190 اسکالر شپس دے چکے ہیں لیکن 410 خالی اسکالر شپس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں لکھا۔ یاد رہے کہ بلوچستان کی مختلف میڈیا تنظیمیں اور سول سوسائٹی ایچ ای سی سے گزشتہ دس ماہ سے اس پروجیکٹ کے حوالے سے معلومات طلب کررہی تھیں لیکن رائٹ ٹو انفارمیشن کی دھجیاں اڑا کر ایچ ای سی نے یہ معلومات فراہم نہیں کیں اور اب پہلی مرتبہ اپنی لسٹ شیئر کی ہے۔ اس غبن میں مرکزی کردار پروجیکٹ ڈائریکٹر دارا شکو اور اکاﺅنٹنٹ محمد عبدالقدوس کو ٹھہرایا گیا ہے اور مختلف میڈیا ہاﺅسز سمیت متعدد سینیٹرز اور ایم این ایز نے ان دو عہدیداروں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن چیئرمین ایچ ای سی نے اس پر کان دھرنے سے انکار کردیا ہے، ان دونوں عہدیداروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی اور دونوں اپنے عہدوں پر برا جمان ہیں۔



