واشک کی سرکاری ادویات کی فروخت کی مبینہ کوشش، ڈی ایچ اوکو گرفتارکرلیا ،پولیس
کوئٹہ(آ ن لائن) ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ دوستین دشتی نے کہا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے سرکاری ادویات کی غیر قانونی طریقے سے فروخت کی کوشش ناکام بناتے ہوئے کروڑوں روپے کی ادویات برآمد کر کے ڈی ایچ او کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ بلوچستان کے ایک ضلع سے سرکاری ادویات فروخت کرنے کیلئے کوئٹہ لائی جا رہی ہیں جس پر ایک ٹیم تشکیل دی جنہوں نے میاں غنڈی میں ایک سرکاری نمبر کی گاڑی کو روکا اور تلاشی لی تو گاڑی میں موجود ڈاکٹر محمد اکبر نے اپنے آپ کو ڈی ایچ او واشک کا تعارف کرایا اور گاڑی میں موجود مختلف ادویات کے 30کاٹن کو چیک کیا گیا جن پر سرکاری مہر اور فروخت کیلئے نہیں تحریر پایا گیا جس پر مذکوری ڈاکٹر نے موقف اختیار کیا کہ یہ ادویات ہم سے اضافی اور زائد المعیاد ہیں اور یہ واشک میں استعمال نہیں ہوئی اس لئے انہیں واپس کر کے متبادل ادویات لینی ہیں لیکن مزید چھان بین کے بعد ایک لیٹر ڈی ایچ او واشک کی جانب سے آر ایچ سی سیاہو زئی کے نام پر موجود تھا حالات اور واقعات سے معلوم ہوا مذکورہ ڈاکٹر بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے کوئٹہ لا کر فروخت کرنا چاہتا ہے جس پر آفیسران بالا کے نوٹس میں لا کر ادویات کو امانتاً تھانہ میں رکھا اور محکمہ کی جانب سے مذکورہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پولیس کی جانب سے ہمیشہ اپنے فرائض کی بجا آوری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے پولیس کا فرض ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی تحفظ کو یقینی بنائیں قبضے میں لی جانے والی ادویات کی مالیت کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت کی سربراہی میں پولیس اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے کسی قربانی سے دریگ نہیں کرے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مزید تحقیقات کی جارہی ہیں ۔


