بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کے ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدہ ہوا ہے جس کی صدر نے بھی تصدیق کی ہے، سردار عمر گورگیج
کوئٹہ( آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر سینیٹر سردار عمر گورگیج نے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کے ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں چاہو تو وزارت اعلیٰ تبدیل ہوگی اور میرے کہنے پر ہی تبدیل نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماءسردار نور احمد بنگلزئی کی جانب سے سینئر سیاستدان سابق وفاقی و صوبائی وزیر سردار یار محمد رند اور دیگر قبائلی سرداروں ، معتبرین ، معززین کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر ”آن لائن“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر میر محمد عارف جان محمدحسنی، سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری، ڈسٹرکٹ چیئرمین کچھی میر بیبرگ خان رند، سردار چنگیز خان ساسولی، سردار عاصم سرپرہ، سردار لیاقت کرد، ملک اکرم خان بنگلزئی،سردار زادہ بلوچ خان گورگیج،میر قادر بنگلزئی،سردارزادہ میر محمد بنگلزئی،میر غلام حیدر بنگلزئی،ملک سیف اللہ شاہوانی،ملک حسیب بنگلزئی، توقیر الحق،آصف نواز کھوسہ حاجی غلام جان حسن زئی، عابد خان گورگیج،میر محمد محمدحسنی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ سردار عمر گورگیج نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت سازی کے دوران وزارت اعلیٰ کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے مابین ڈھائی ڈھائی سالہ معاہدہ موجود ہے جس کی صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں چاہوں گا تو وزیر اعلیٰ تبدیل ہوگا اگر میں نہ چاہوں تو تبدیل نہیںہوگا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے وزراءپارلیمانی نمائندوں اور صوبائی قیادت نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی جس میں تمام ممبران نے صدر مملکت کو بلوچستان کی صورتحال ، امن وامان کی بہتری اور ترقیاتی عمل کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کیا تھا اور امن وامان کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی گئی اور سب نے بتایا کہ بلوچستان جوکہ رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے آدھے سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا منتشر آبادی پر مشتمل صوبہ ہے بلوچستان کے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے ان کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات اور وسائل کی ضرورت ہے اس لئے بلوچستان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے کیونکہ پنجاب میں 100 مربع کلو میٹر پر رکن صوبائی اسمبلی کا حلقہ ہے لیکن بلوچستان میں 400 سے 740 کلو میٹر تک رکن صوبائی اسمبلی کا حلقہ ہے جہاں وسیع و اریض حلقے میں پھیلی ہوئی آبادی کو سہولیات کی فراہمی موجودہ وسائل میں ممکن نہیں اس لئے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔


