اسمبلی اجلاس، صوبائی وزیر سمیت اراکین اسمبلی بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر برس پڑے
کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر میر صادق عمرانی سمیت اراکین اسمبلی بلوچستان میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر برس پڑے ، اسپیکر کے استفسار پر اراکین اسمبلی کا گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر سمیت تین افراد کے اغواءکی مذمت ۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی آفیسر کو تبدیل کرتے ہیں وہ عدالت میں چلا جاتا ہے عدالت اس آفیسر کو حکم امتنائی دے دیتی ہے اس حوالے سے ہمیں قانون سازی کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال تشویشناک ہے میرے گھر پر پانچ مرتبہ ہوچکا ہے ، تین بار سولر پینل تباہ کیے گئے ،دھمکیاں اور بھتے کی برچیاں دی جارہی ہیں نوابزادہ طارق مگسی سمیت ہم کوئی روڈ کے ذریعے اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے ہیں‘ وزیر اعلیٰ ‘ وزیر داخلہ ، آئی جی کے پاس گیا ‘ جب آپ اپنے وزیر کو تحفظ نہیں دے سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کی ضروت نہیں دل چاہتا ہے اس اسمبلی کا بائیکاٹ کردو ں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تحفظ نہیں ہے اگر صورتحال پر قابو نہیں پایا گیا تو خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے،اس سلسلے میں مذاکرت ، میڑھ جس کی ضرورت ہے وہ کیا جائے صوبے کے لوگ مررہے ہیں ایک فارمولے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ریاست اربوں روپے امن و امان پر خرچ کرر ہے ہیں لیکن کوئی امن و امان نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر ادخلہ اتنا سنجیدہ ہیں کہ بات بھی نہیں سن رہے ہم پہلے کراچی جاتے ہیں ‘ پھر سکھر کے راستے علاقے میں جاتے ہیں صوبے کے تین اہم روڈ خضدار ‘ ژوب ‘ نصیر آباد والے تینوں روڈ بند ہیں ۔جس پر اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ اگر آپ کے معاملات میں مداخلت ہورہی ہے تو حکومت قوانین میں ترمیم کرے امن امان کے حوالے سے حکومتی رکن کا اظہار حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے ۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ہے ایک رکن اسمبلی کو چھ اور وزیر کو 8 سیکورٹی گارڈز دئیے گئے ہیں جو کافی ہیں ہم یہاں چھوٹے چھوٹے مسائل پر بات کرتے ہیں مگر اہم مسائل پر بات نہیں کرتے یہاں موجود سیاسی جماعتیں کھل کر دہشتگردوں کے خلاف بات نہیں کرتی ہیں کھل کر بات نہ کرنے سے حکومت کے موقف کو تقویت نہیں ملتی ہے ، آپ کھل کر دہشتگردوں کا ان کی تنظیموں کا نام لیں زبان کے نیچے بات نہ رکھیں ضیا لانگو نے کہا کہ جو ملک کے قانون کو تسلیم کریں گے ان کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں جو ملکی قانون کو تسلیم نہیں کریں گے تو ان سے ہماری جنگ ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رکن انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ ہے وہ کیوں نہیں سنبھالے جاتے ہیں وزیر داخلہ کی بات غلط ہے کہ منتخب نمائندوں نے دہشتگردی کے خلاف بات نہیں کی منتخب عوامی نمائندوں کی بات نہیں سنی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران میں جنگ ہے وہاں لوگوں کو چھ روپے لیٹر پیڑول مل رہا مفت روٹی مل رہی ہے ، یہاں تو عوام کو پیڑول کے نام پر لوٹا جارہا ہے عوام کو خوش کریں ملک اور صوبے میں امن ہوگا ملک میں امن کیلئے اسی اسمبلی اور منتخب نمائندوں نے کام کرنا ہے ،نیشنل پارٹی کے رکن سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ یہاں پر ہر کوئی کوشش کررہا ہے کہ میں بڑا وفا دار ہوں ہم سب پاکستانی ہیں اور ملک سے وفادار ہیں ، ان حالات کو سیاسی طور پر حل کرسکتے ہیں چیزیں بندوق سے ٹھیک نہیں ہوں گی، ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ آج صوبے کے سڑکوں پر سفر نہیں کرسکتے ہیں گھر میں نہیں رہ سکتے ہیں ، گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پروائس چانسلر کو اغوا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے کہ صوبے کامسائل کا حل مذاکرت ہے ، ایسا ماحول بنایا جائے کہ بات چیت کے دروازے کھولے جائیں میرے دور میں ہم بات چیت کے لئے آگے پہنچ گئے تھے ، جس پر اسپیکر نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان نے کئی مرتبہ مذاکرت کی دعوت دی ہے لیکن وہ سب کہتے ہیں بندوق کے زور پر مذاکرت نہیں ہوسکتے ہیں وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ حکومت کی رٹ قائم ہوگی لیکن سب نے کھل کر ساتھ دینا ہوگا۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ یہاں ڈبل گیم نہ کھیلیں ، کھل کر نام لیں ، جمعیت علماءاسلام کی رکن شاہد رﺅف نے کہا کہ گزشتہ روز مستونگ سے وائس چانسلر اور پر وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی اغوا ہوئے ہیں اور ہم اس کی مذمت نہیں کرسکتے ہیں ۔اس موقع پر اسپیکر کے استفسار پر تمام اراکین نے کھڑے ہوکر وائس چانسلر اور دیگر کے اغواکی مذمت کی۔ اجلاس کے دوران بات کی اجازت نہ ملنے مولانا ہدایت الرحمن م±سلسل بولتے رہے جس پر اسپیکر نے کہا کہ مولاناہدایت الرحمن ایوان کی کارروائی کو متاثر کررہے ہیں ، صوبائی وزیر میر ظہور بلید ی نے کہا کہ یہ ایوان مچھلی بازار بن گیا ہے اس موقع پر کورم کی نشاندھی بھی کی گئی جس کے بعد اراکین کو بلانے کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں بعدازاں کوئٹہ: کورم پورا ہونے پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا ۔


