نیشنل پارٹی قیادت کے میر اسرار زہری کیخلاف ہتک آمیز اور غیر شائستہ بیانات جمہوری مزاج کے منافی ہیں، ترجمان بی این پی عوامی
خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) خضدارکے ضلعی ترجمان نے نیشنل پارٹی کی قیادت کی جانب سے بی این پی عوامی کے مرکزی صدر میر اسراراللہ خان زہری کیخلاف دیے گئے بیانات کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاست کے شائستہ مزاج کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ نیشنل پارٹی کی قیادت مسلسل اپنے سیاسی موقف میں تبدیلیاں لاتے ہوئے گرگٹ کی مانند رنگ بدل رہی ہے، اب وہ سنجیدہ مباحثے کے بجائے بی این پی عوامی کے قائدین کے خلاف ہرزہ سرائی اور غیر ضروری تنقید کا سہارا لے رہی ہے جو بلوچستان کی سیاسی روایات کے خلاف ہے۔ میر اسراراللہ خان زہری بلوچ قوم کے حقیقی عوامی لیڈر ہیں، ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور ہمیشہ عوامی مفادات حقوق اور وسائل کا تحفظ رہا ہے۔ عوام ان کی شخصیت اور خدمات سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی کردار کشی ان کے عوامی مقام کو متاثر نہیں کرسکتی ہے۔ ترجمان نے نیشنل پارٹی کو بدنام زمانہ ٹینکی لیکس نیشنل پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کی قیادت سنجیدہ سیاست اور عوامی مسائل کے حل کے بجائے بچکانہ بیان بازی اور الزام تراشی میں مصروف ہے، یہ رویہ نہ صرف جمہوری اقدار کے خلاف بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے، نیشنل پارٹی کے نام نہاد صوبائی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ لوگ نابالغ سیاست کی علامت بن چکے ہیں، انہیں اخلاقیات اور جمہوری آداب کا درس دینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ترجمان نے کہا میر اسراراللہ خان زہری نے نیشنل پارٹی کی قیادت کے مزاحیہ اور موقع پرستانہ رویے پر صرف حقائق کی روشنی میں تبصرہ کیا تھا، اس پر نیشنل پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت نے ہتک آمیز اور غیر شائستہ زبان استعمال کی جو قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ سیاست میں اختلاف رائے ہر جماعت کا حق ہے لیکن اختلاف کو ذاتیات اور کیچڑ اچھالنے تک لے جانا جمہوری روایات سے انحراف ہے نیشنل پارٹی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی گزشتہ کارکردگی کا احتساب کرے اور عوام کو بتائے کہ اقتدار میں رہ کر انہوں نے بلوچستان کے لیے کیا عملی اقدامات کیے۔


