وائس چانسلر اور پروائس چانسلر گوادر یونیورسٹی، ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور حاتم بلوچ کی عدم بازیابی کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی
گوادر میں یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر محمد ارشاد بلیدی اور حاتم بلوچ کی جبری گمشدگی اور عدم بازیابی کے خلاف ایک وسیع عوامی و احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔احتجاجی ریلی سیرت النبی چوک سے شروع ہوئی اور میرین ڈرائیو پر واقع سید یادگار چوک پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی میں گوادر کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، بلدیاتی نمائندوں سول سوسائٹی کے نمائندوں، علما کرام، وکلا، ڈاکٹرز، طلبہ، تاجر برادری اور زندگی کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر "Bring Them Back” (انہیں واپس لاؤ) اور اساتذہ کی بحفاظت واپسی کے مطالبات درج تھے۔ *ریلی سے آر سی ڈی کونسل گوادر کے صدر حاجی عبدالغنی بلوچ نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے اعلیٰ اساتذہ اور دانشوروں کا اغواء محض چند افراد کا اغواء نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اغواء ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ بلوچستان میں جاری بدامنی کی موجودہ لہر سے اب ہمارا استاد اور دانشور طبقہ بھی محفوظ نہیں رہا۔ریلی کے اختتام پر یونیورسٹی آف گوادر کے کنٹرولر امتحانات رحیم مہر نے شرکاء کے سامنے ایک متفقہ احتجاجی قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے حکومت اور مقتدر حلقوں سے مغوی اساتذہ کی فوری اور بحفاظت رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا گیا۔
اس موقع پر نظامت کے فرائض آر سی ڈی کونسل کے سابق صدر ناصر رحیم سہرابی نے سر انجام دیے۔
سید یادگار چوک پر یونیورسٹی آف گوادر کے کنٹرولر امتحانات رحیم مہر کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کا متن درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:
1ـ مغوی اساتذہ کی فوری بازیابی کا مطالبہ
گوادر کا یہ احتجاجی اجتماع یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر محمد ارشاد بلیدی اور حاتم بلوچ کے اغواء کیے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری، بحفاظت اور باوقار واپسی کا پُرزور مطالبہ کرتا ہے۔
2- علمی شخصیات کے اغواء کی مذمت
یہ ریلی اساتذہ اور علما کرام کو معاشرے کا اہم ترین ستون سمجھتے ہوئے ان کے خلاف اس طرح کے مذموم عمل کو اسلامی اور بلوچی روایات کے سراسر منافی سمجھتی ہے، اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
3- علمی نسل کشی پر تشویش کا اظہار
یہ ریلی نوشکی میں براہوئی و بلوچی کے ممتاز شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کو علم و دانش کا قتل سمجھتی ہے اور معاشرے میں طاقت کے بڑھتے ہوئے بے لگام استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
4- یونیورسٹی آف گوادر سے یکجہتی
گوادر کے شہری، یونیورسٹی آف گوادر کے تعلیمی اور سماجی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کڑے وقت میں یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کو امن اور اعتماد فراہم کیا جائے۔
5ـ جان و مال کے تحفظ کی اپیل
ہم تمام اغوا شدگان کی جلد بازیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں شہریوں کی جان و مال کی سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔


