عارف وزیر اور حیات بلوچ کا قتل، بلوچستان کے لوگوں کو مارا جارہاہے،معاملہ تشویشناک ہے، عثمان کاکڑ
اسلام آباد؛پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے کہاہے کہ عدلیہ بحالی تحریک کاایک بہت بڑا نام نسرین ایڈووکیٹ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر انسانی حقوق ،وزیراعظم ،سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ،موجودہ حکومت دہشتگردوں کا دوست ہے ،ملک کو نئے آگ کی طرف دھکیلاجارہاہے ،یہاں نہ ہی خواتین محفوظ ہے ہی وکیل اور دوسرے محفوظ ہے ،ملکی عوام اپنی ریاست سے خوفزدہ ہے ۔اگر ان معاملات پر خاموشی اختیار کی گئی تو یہ ہماری تباہی کاباعث بنے گی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہاکہ ایک بہت بڑا نام نسرین ایڈووکیٹ صاحبہ جس نے عدلیہ بحالی تحریک میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف بہت بڑی جدوجہد کی تھی اسے سلام پیش کرتاہوں جنرل پرویزمشرف اور اس کے بعض ساتھی جو اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں کہہ رہے کہ وہ کام غلط تھا ،نسرین ایڈووکیٹ کو حویلی لکائو اوکاڑہ میں اپنے دفتر سے اغواء کیا ،تقریباََ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ باعث افسوس ہے اس پر مرکزی وصوبائی حکومتیں ہو یا ادارے دنیا کو کیاپیغام دیاجارہاہے کہ ایک ایڈووکیٹ کے ساتھ یہ کرسکتاہے ،کوئی اس کا نوٹس نہیں لیتا ،کہا ہے وہ وزیراعظم،انسانی حقوق کا محکمہ اور سیاسی جماعتیں یا مزدور میڈیا جنہوں نے ہمیشہ ایسے واقعات پرآنکھیں بند کیں ،وہ میڈیا جو ہر وقت غیرضروری ایشوز پر ٹاک شوز کرتے ہیں لیکن انسانی مسئلے خاموشی اختیار کرتے ہیں ،میر شکیل الرحمن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور روزانہ اس کے خلاف سراپااحتجاج ہے مگر معصوم باعزت ،جرأت مند اور عدلیہ کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرنے والی ایڈووکیٹ پر خاموشی اختیار کی گئی ہے ،چیئرمین سینیٹ معاملے کو انسانی حقوق کے کمیٹی کے پاس بھجوایاجائے اگر ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کی جائے تویہ بہت بڑی تباہی ہوگی ،انہوں نے کہاکہ ایک مشہور دہشتگرد جو دنیا کے نظروں میں ہے پشاور کینٹ سکول کے بچوں کو شہید کرنے کا دعویدار تھا لیکن انہیں پشاور کے سیف ہائوس میں ٹھہرایا گیا اس کی نیوز آگئی اور انٹرویو بھی آیا ہے ،بہت تفصیل بتائی ہے لیکن اس پر میڈیا،سمیت اپوزیشن سب خاموش ہے ،یہ حکومت دہشتگردوست حکومت ہے ،انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کی دوستی پر وزیراعظم کا کیا نام رکھاگیاتھا،بلوچستان میں لوگوں کوماراجارہاہے ،خضدار میں اجتماعی قبر نہیں ملا ،عارف وزیر اور حیات بلوچ کو شہید کیا گیا ،یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہے ،نیا آگ لگ جائے گا،بڑی جماعتیں بلاکاکہتے ہیں تو دوسرے دن منسٹر حاضر ہوتاہے لیکن چھوٹی پارٹیاں جب کہتی ہیں تو انہیں ٹول کاکہاجاتاہے ۔یہاں خاتون ،وکیل ،سیاست دان ،طالب علم محفوظ ہے نہ ہی کوئی دوسرا محفوظ ہے ،ریاست سے عوام خوفزدہ ہے ،مہنگائی ،بے روزگاری اور بدامنی ہے لیکن ہر کوئی اپنے عزت پرپریشان ہے کہ ان کا کیا ہوگا۔


