میرے گھرپر حملے میں ہمارے 17 ساتھی جان کی بازی ہار گئے، شفیق الرحمان مینگل

برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما شفیق الر حمان مینگل نے اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے کرائے کے قاتلوں نے میرے گھر کے دروازے پر بارود سے بھری ایک گاڑی ٹکرا دی وہ بلوچستان میں شاید ہمیں نظریہ پاکستان کے سب سے بڑا علمبردار سمجھتے ہیں اس لیے وہ ہمیں سب سے زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بدھ کے روز ڈھائی بجے کے قریب کیا گیا جس کے نتیجے میں مرکزی دروازے کے قریب ہمارے 17 ساتھی جان کی بازی ہار گئے جبکہ کچھ لوگ زخمی ہوئے۔انھوں نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد ہمارے جو ذاتی محافظین اور رشتہ دار تھے انھوں نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ان کے بقول جو باقی حملہ آور تھے وہ گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا ہے کہ ان کے محافظین کی جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے اور ان میں سے بعض زخمی حالت میں فرار ہو گئے مارے جانے والے حملہ آوروں کی تعداد چھ ہے۔میر شفیق الرحمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ا±نھیں سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور اس حملے میں ان کی جانب سے جو لوگ مرے ان میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ پہلے لیویز فورس میں تھے جو کہ بعد میں پولیس کا حصہ بن گئے اور یہ بھی ہمارے رشتہ دار اور علاقے کے لوگ تھے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کا ہدف میں ہی تھا لیکن ہمارے ساتھیوں کی دلیری کی وجہ سے وہ ناکام رہے۔

میر شفیق الرحمان مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ہم اور قربانی دینے والے ساتھی نظریہ پاکستان کے علم بردار رہے ہیں اس لیے وہ ہمیں نشانہ بنارہے ہیںپچھلے سال میرے چھوٹے بھائی میر عطاالرحمان مینگل پر حملہ کیا گیا جس میں وہ مارے گئے جبکہ اس سے پہلے بھی میرے رشتہ داروں اور ساتھیوں پر حملے ہوئے لیکن وہ ہمیں ہمارے نظریے اور جدوجہد سے نہیں ہٹا سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں