آج کا طاقتور بھارت دہشت گردوں کو گھر میں گھس کر مارتا ہے،نریندر مودی

بھارتی وزیر اعظم نے دیوالی کے موقع پر اپنے 35 منٹ طویل خطاب کے دوران سرحدوں اور ان پر تعینات فوجیوں کا بار بار تذکرہ کیا لیکن جمعے کو لائن آف کنٹرول پر ہونے والی ہلاکت خیز گولہ باری پر لب کشائی نہیں کی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی افواج کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا ’طاقتور بھارت‘ دہشت گردوں کو ’گھر میں گھس کر‘ مارتا ہے۔

انہوں نے یہ بات ہفتہ (14 نومبر) کو راجستھان کے ضلع جیسلمیر میں ہندوؤں کے مذہبی تہوار دیوالی کے موقعے پر بھارتی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

نریندر مودی نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا: ’آج کا بھارت دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کو گھر میں گھس کر مارتا ہے۔ آج دنیا یہ جان اور سمجھ رہی ہے کہ یہ ملک سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بھارت کو یہ طاقت آپ (فوجیوں) کی وجہ سے مل رہی ہے۔‘

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے 35 منٹ طویل خطاب کے دوران سرحدوں اور ان پر تعینات فوجیوں کا بار بار تذکرہ کیا لیکن جمعے کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی ہلاکت خیز گولہ باری پر لب کشائی نہیں کی۔

انہوں نے فوجیوں سے مخاطب ہو کر کہا: ’آپ بھلے برفیلے پہاڑوں پر تعینات ہوں یا پھر ریگستان میں۔ میری دیوالی تو آپ کے بیچ آ کر ہی پوری ہوتی ہے۔ آپ کے چہروں کو دیکھتا ہوں تو میری خوشی بڑھ جاتی ہے۔‘

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت بھارتی فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنے سے نہیں روک سکتی۔

’دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صرف وہی ممالک محفوظ رہے ہیں اور آگے بڑھے ہیں، جن کے اندر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت تھی۔ بھارت آج محفوظ ہے کیونکہ اس کے پاس اپنی حفاظت کرنے کی طاقت ہے۔ بھارت کے پاس آپ جیسے بہادر بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ جب بھی ضرورت پڑی ہے، بھارت نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کے پاس طاقت بھی ہے اور صحیح جواب دینے کی ہمت بھی ہے۔‘

دیوالی کے موقع پر اپنے خطاب میں نریندر مودی نے مزید کہا کہ آج پوری دنیا توسیع پسند طاقتوں سے پریشان ہے۔ ’توسیع پسندی ایک ذہنی بیماری ہے اور اٹھارہویں صدی کی سوچ کی عکاس ہے۔ اس سوچ کے خلاف بھی بھارت ایک مضبوط آواز بن رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ آج کا بھارت اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں تمام درکار اقدامات اٹھا رہا ہے۔
’ہمارا مقصد سرحد پر امن قائم کرنا ہے۔ آج بھارت کی پالیسی صاف ہے۔ آج کا بھارت سمجھنے اور سمجھانے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے، لیکن اگر ہمیں آزمانے کی کوشش کی گئی تو پھر جواب بھی اتنا ہی سخت ملے گا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں