چمن کے رہائشیوں کا لاش کے ہمراہ بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا، ٹریفک کا نظام درہم برہم، اپوزیشن ارکین کا شرکاء سے اظہار یکجہتی

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) چمن میں بد دستور حالات کشیدہ سکیورٹی فورسز کے فائرنگ سے جان بحق افراد کی تعداد 2 ہوگئی چمن کے رہائشیوں نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے لاش رکھ کر دھرنا دیا دھرنے میں شرکت کے لئے قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی، پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر نصر اللہ زیرے اراکین اسمبلی عبدالوحد صدیقی، اکبر مینگل اور اصغر ترین نے شرکت کی دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم خیبر پختونخواہ کے رکن صوبائی اسمبلی اسمبلی میر قسلم وزیر نے خطاب کرتے ہوئے کیا چمن بارڈر پر بے گناہ پشتونوں کے جنازے اٹھااٹھا کر ہم تھک چکے ہیں اس طرح وزیر ستان میں تین قومی مشران کو قتل کیا گیا ہے ہمارے لئے اپنی سر زمین کو تنگ کردیا گیا ہے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک اصغر شاہوانی کا کہنا تھا کہ پشتونوں اور بلوچوں کے لئے جان بوجھ کر حالات کو خراب کیاجارہاہے انہوں نے کہاکہ جب پہلی مرتبہ چمن بارڈر پر جھڑپ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 6بے گناہ افراد شہید ہوگئے تو ہم نے مطالبہ کیا کہ چمن واقعے پر ایک آزاد کمیشن تشکیل تیا جائے تاکہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی اس لئے آج پھر دو بے گناہوں کو شہید کیا گیا جو قابل مذمت ہے۔ پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر نصر اللہ زیرے نے کہاکہ چمن میں سیکورٹی فورسز کے ظلم کا یہ پہلا دن نہیں ہے۔ اس واقعے جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ پشتونخوا میپ قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتی ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالواحد صدیقی نے کہاکہ بے گناہ شہریوں کو فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملک عبدالمجید کاکڑ کا کہنا تھا کہ روز روز ایف سی کے ہاتھوں بے گناہ افراد شہادت کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں