اورماڑہ میں فش پروسیسنگ کمپنیوں کی غیر مقامی خواتین ملازمین کی نقل و حرکت، عوامی شکایت پر پولیس کا نوٹس

اورماڑہ (یو این اے) غیر مقامی خواتین ملازمین کی نقل و حرکت پر عوامی تشویش، پولیس کا ایکشن، اورماڑہ میں دیمی زِر ساحل پر واقع فش پروسیسنگ کمپنیوں میں کام کرنے والی غیر مقامی خواتین ملازمین کی کھلے عام نقل و حرکت اور عوامی شکایات پر پولیس نے سخت نوٹس لے لیا۔ ایس ایس پی گوادر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) عطا الرحمن خان ترین کی خصوصی ہدایات اور ڈی ایس پی/ ایس ڈی پی او پسنی سرکل ملک احمد کے احکامات کی روشنی میں ایس ایچ او سٹی تھانہ اورماڑہ بشیر یوسف نے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے کمپنی مالکان اور ان کے ٹھیکیداروں کو طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او سٹی بشیر یوسف اور سٹی محرر علاالدین نے فش پروسیسنگ کمپنیوں کے مالکان اور ان کے ٹھیکیداروں کو پولیس اسٹیشن طلب کر کے انہیں واضح طور پر تنبیہ کی کہ وہ اپنی کمپنیوں میں کام کرنے والی غیر مقامی خواتین ملازمین کی نقل و حرکت کو محدود کریں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کمپنیوں کے باہر سڑکوں پر ان خواتین کی بلا ضرورت چہل قدمی سے مقامی بلوچ معاشرت اور روایات پر اثر پڑ رہا ہے۔ ایس ایچ او نے موقف اختیار کیا کہ اورماڑہ ایک روایتی بلوچ علاقہ ہے جہاں غیر مقامیوں کی اس طرح کی سرگرمیاں عوامی اضطراب اور ماحول میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایس ایچ او بشیر احمد نے واضح کیا کہ پولیس علاقے میں امن و امان کے قیام اور مقامی سماجی اقدار کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کمپنی مالکان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے عملے کو نظم و ضبط کا پابند بنائیں تاکہ عوامی شکایات کا ازالہ ہو سکے اور علاقے کا ماحول پرامن رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے