میرا لیاری …. …. کس کا لیاری
تحریر: انور ساجدی
حالات ایسے ہیں صورتحال اس طرح ہے واقعات اتنے گمبھیر ہیں کہ دل میںاٹھنے والا درد ”سوا“ ہورہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کراچی اور سندھ میں بلوچ شناخت ختم کرنے پر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، حکومت اور ریاست کیوں ایک پیج پر ہیں۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کو تکلیف کیوں ہے۔ اس کا رویہ آمرانہ، فاسقانہ اور جابرانہ ہے۔
جب محترمہ حیات تھیں تو بلاول ہاﺅس میں ان سے شرف بازیابی رہی۔ وہاں پر پروفیسر این ڈی خان بھی موجود تھے، مجھے دیکھ کر انہوں نے کہا کہ انتخاب اخبار مجھے صحیح کوریج نہےں دے رہا۔ مجھے غصہ آیا، میں نے کہا کہ پروفیسر صاحب آپ نہ اتنے بڑے لیڈر ہیں اور نہ پیپلز پارٹی کراچی میں بڑی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھئے یہ شخص پارٹی کی توہین کررہا ہے۔ میں نے کہا کہ محترم کراچی پیپلز پارٹی ان پاکٹوں میں موجود ہے جہاں بلوچ رہتے ہیں لیکن عہدے سارے این ڈی خان کے پاس ہیں۔ اس پر محترمہ نے قہقہہ لگایا۔
جب بھٹو صاحب نے 1970 کی انتخابی مہم کا آغاز کیا تو پہلا جلسہ گبول پارک میں ہوا۔ پارٹی اتنی منظم نہیں تھی، صابر بلوچ کو اسٹیج سنبھالنا پڑا، اسی جلسے میں بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ ” لیاری میرا جی ایچ کیو ہے، مجھے لاڑکانہ تو چھوڑ سکتا ہے لیاری نہیں،،
جلسے کے بعد وہ ٹرین میں سوار ہوئے جو پنڈی تک چلی، راستے کا سارا انتظام صابر بلوچ کے ہاتھ میں تھا۔ الیکشن میں بھٹو صاحب لیاری کی سیٹ جیت گئے اور وزیراعظم بن گئے، ان کی واحد مہربانی یہی تھی کہ لیاری کو لیز کردیا ورنہ کراچی کے اس پہلی آبادی کو ریاست کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے کچی آبادی قراد دیا تھا۔
انگریز ریکارڈ کے مطابق جب انگریزوں نے کراچی پر قبضہ کیا تو منوڑہ میں ریاست قلات کی چیک پوسٹ تھی جس پر ایک سپاہی متعین تھا۔ انگریزوں کے ہی ریکارڈ کے مطابق جو 1947 میں شائع ہوا کراچی کی آبادی 3لاکھ تھی جن میں نصف بلوچ اور باقی مختلف قوموں کے لوگ تھے۔ لیکن جب پاکستان قائم ہوا تو لاکھوں مہاجرین کراچی آئے جو پہلی ڈیموگرافک تبدیلی کا موجب بن گئی، جن لوگوں نے پورٹ قائم کیا تھا اور کراچی کے نواح میں سبزی اور پھل اگاتے تھے انہیں مکھی کی طرح نکال باہر کردیا گیا۔ جس لالو کے کھیت پر قبضہ کیا گیا، اس کا نام لیاقت آباد رکھ دیا گیا۔ رفتہ رفتہ جب اردو بولنے والوں کی اکثریت ہوگئی تو انہوں نے کراچی کی شناخت بدلنا شروع کردی۔ کئی لوگوں نے کتابیں لکھیں جن میں بلوچ کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ پھر 1980 کی دہائی میں ان لوگوں کے ہاتھوں میں ایک ہیرا لگا جس کا نام گل حسن کرامتی عرف کلمتی تھا۔ جو ایک سرقہ نویس تھے اور انہوں نے مہر ثبت کردی کہ کراچی بھوجو مل اور ناﺅ مل نے بنایا تھا۔ کسی مائی کلاچی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جان بوجھ کر ایسا نصاب تیار کیا گیا جس میں متحدہ ہندوستان اور افغانستان کی شخصیات کو ہیرو بنایا گیا۔ اس نصاب میں پیر صغت اللہ راشدی کو جگہ نہیں دی گئی اور نہ ہی میانی کے عظیم معرکہ کو شامل کیا گیا جس میں بلوچوں نے نعرہ لگایا تھا
”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“
اسی جنگ میں ایک دوسرا نعرہ تھا کہ سندھ مادر بلوچان است۔ عجیب بات ہے کہ ریاست تو سندھ اور بلوچستان میں قائم ہوئی لیکن اس کے ہیرو گنگا اور جمنا سے تعلق رکھتے یا افغان اور مغل تھے۔ اس نصاب میں خان محراب خان کی قربانی کا کوئی تذکرہ نہیں جس نے بالکل ٹیپو سلطان کی طرح انگریز سے لڑتے ہوئے جان دی تھی۔ اس قضیہ کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ یہ ریاست ہندوستان کے لوگوں نے قربانی دے کر بنائی ہے، لہٰذا ان کا کلچر، زبان اور روایات کو اپنانا ہوگا۔ بنگال میں اردو کو جبراً رائج کرنا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہی عمل بالآخر 16دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کا سبب بنا۔
ایک اور ہم واقعہ یہ تھا کہ پنجاب نے تحریک پاکستان میں سرے سے حصہ ہی نہیں لیا تھا۔ قیام پاکستان تک وہاں پر کانگریس اور یونینسٹ پارٹی کی مخلوط حکومت قائم تھی لیکن رفتہ رفتہ پوری ریاست پنجاب کی ”ہیجامنی“ میں چلی گئی۔ آج صورت یہ ہے کہ تین صوبے مل کر بھی پنجاب کا مقابلہ نہیں کرسکتے سارے وسائل پنجاب کے تصرف میں ہیں۔ سوئی گیس مری کے پہاڑوں پر بھی موجود ہے لیکن سوئی کے لوگ لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں۔ جب بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی گئی تو اسے ملک دشمن اور نظریہ پاکستان کا مخالف گردانا گیا۔ حیدر آباد سازش کیس، نواب نوروز خان کی سزا اور اکبر بگٹی کی شہادت اس کے واضح ثبوت ہیں۔
ریاست کی پالیسیاں اپنی جگہ، سندھ کی مختلف حکومتیں اور بلا بن گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت محترمہ کی شہادت کے بعد ایسے ہاتھوں میں چلی گئی جنہوں نے نہ بھٹو کو دیکھا تھا اور نہ پیپلز پارٹی کے قلعہ لیاری کو کچھ سمجھتے تھے۔ بھٹو اور بے نظیر نے جیالے بنائے تھے۔ اس اصطلاح کا مطلب تھا ”جنون“ جیالے پیپلز پارٹی کے عشق میں جنونی بن گئے تھے۔ یہ جیالے ہی تھے جنہوں نے پھانسیاں پائیں، کوڑے کھائے اور خود کو زندہ جلا دیا لیکن محترمہ کے بعد جناب زرداری نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں اقتدار کیلئے جیالوں اور ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے اس کے لئے ایک ”سجدہ سہو“ کافی ہے۔ 2008 کے انتخابات کو چھوڑ کر اس کے بعد پیپلز پارٹی اسی پالیسی پر چل رہی ہے۔ نتیجہ کیا ہوا پارٹی کو لیاری اور لاڑکانہ دونوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب جیالے نہ رہے تو پیپلز پارٹی اپاہج بن گئی اسے اقتدار میں آنے کے لئے دشمنوں اور عوام دشمن عناصر کا محتاج ہونا پڑا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے عوام سے اپنا ناطہ توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے پنجاب سے اس کا وجود ختم ہوچکا ہے۔ وہ سندھ تک محدود ہے لیکن سندھ کا اقتدار بھی بڑی حد تک سمجھوتے کا مرہون منت ہے۔ جب اوپر کی نظر نیک نہ ہو تو جام صادق علی اور ارباب رحیم جیسے لوگ بھی سندھ کے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنا سحر کھو چکی ہے۔ وہ مختلف مافیاز کے ذریعے ووٹ حاصل کررہی ہے۔ پارٹی کے عہدوں پر ایسے لوگ قابض ہیں جن کا اس پارٹی کے سیاسی ورثہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے وار لارڈ اور گینگ وار کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ حالانکہ جب ایم کیو ایم عروج پر تھی تو کراچی کے لوگ بے یارو مددگار تھے، انور بھائی جان، رحمان بلوچ اور عذیر بلوچ نے مجبور ہو کر ناپسندیدہ قدم اٹھایا کیونکہ ایم کیو ایم لیاری اور ٹرانس لیاری کے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتی تھی تاکہ آبادی کا توازن بگڑ جائے اور بلوچ شناخت مٹ جائے۔ ایم کیو ایم کے دور اقتدار میں لفظ بلوچ شجر ممنوعہ تھا۔ تمام سرکاری اداروں سے بلوچوں کا صفایا کردیا گیا، اسی دور میں لیاری سے بڑے پیمانے پر آبادی کا دیگر علاقوں میں انخلاءہوا۔ گینگ وار بے شک ناپسندیدہ چیز ہے لیکن یہ جنگ نہ ہوتی جسے ایم کیو ایم اور اس کے میڈیا نے گینگ وار کا نام دیا تو جتنے بھی بلوچ باقی ہیں ان کا نام و نشان نہ ہوتا۔ یہ ایک بقا کی جنگ تھی، رحمن بلوچ اور عذیر نے کافی غلط اور درندہ صفت اقدامات اٹھائے تھے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کی یلغار کو انہوںنے روک دیا تھا۔ اس زمانے میں سارے سندھی قوم پرست بلوں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ایاز لطیف پلیجو اور ذوالفقار مرزا لیاری آکر یہ اعلان نہ کرتے کہ یہی وہ مقام ہے جس نے کراچی کو جنم دیا تھا اور یہاں کے لوگ فرزند زمین ہیں۔
دھریندر فلم کے بعد سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ”میرا لیاری“ کے عنوان سے لیاری کی اصل تصویر پیش کریں گے۔ اگر شرجیل میمن مہربانی کرکے لیاری کی اصل تصویر نہ دکھائیں تو بہتر ہے کیونکہ لیاری نے جو عظےم فٹبالر پیدا کئے وہ کسی حکومت کے مرہون منت نہیں ہیں۔ لیاری کی اسٹریٹ کے بچے جب برازیل گئے اور ورلڈ ٹورنامنٹ میں پوزیشن حاصل کی تو اس میں سندھ حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ناصر کریم کی ذاتی کاوشوں کا دخل ہو، لیاری نے جو گلوکار اور نغمگی پیدا کی وہ اس کا قدرتی ٹیلنٹ تھا۔ استاد بلاول بنجو یا استاد نور بخش نے جو عالمی شہرت حاصل کی اس میں سندھ حکومت کا کوئی کمال نہیں تھا۔ لیاری ایک ورسٹائل علاقہ ہے۔ غالباً یہ واحد علاقہ ہے جہاں ایک درجن زبانیں بولی جاتی ہیں۔ وہاں پر حق ہمسائیگی سب سے زیادہ ہے اور میوہ شاہ قبرستان کسی ایک قوم اور لسان کے لئے مختص نہیں ہے۔ لیاری آرٹ بلوچی کشیدہ اور دیگر کسب و ہنر میں یکتا ہے۔ یہیں پر عظیم گلوکار استاد فیضو بلوچ نے جنم لیا، جاڑک عبدالستار اور استاد شفیع نے اسی مقام پر غضب کی موسیقی ترتیب دی۔ باکسروں کو دیکھو تو ان کی تعداد کتنی زیادہ ہے لیکن لیاری کا چہرہ مسخ کرنے اور لوگوں کو ناکارہ بنانے کے لئے وہاں پر منشیات کو فروغ دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر گھر متاثر ہے، لیاری کے تعلیمی اداروںکو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔ یہ عمل ایک سازش کا نتیجہ ہے تاکہ کراچی کی یہ جنم بھومی پیچھے رہے۔ یہاں کے لوگ نشہ کی لت میں پڑ کر ناکارہ ہوجائیں، لیاری پر ایک قہر آلود تباہی پولیس، رینجر اور دیگر اداروں کا روز روز کی کارروائی ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ ملک دشمن یہاں پر چھپ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ الزام 90 فیصد غلط ہے۔ سندھ کی ہر حکومت کی یہ کوشش رہی ہے کہ لیاری اور بلوچستان کا تعلق ٹوٹ جائے لیکن یہ ایک جغرافیائی اور تاریخی تعلق ہے جسے کبھی توڑا نہیں جاسکتا۔ شرجیل میمن لاکھ کوشش کے باوجود تیکنیکی اعتبار سے دھریند جیسی فلم نہیں بناسکتے۔ انہوں نے کوئٹہ کے ایک ”استا کار“ کو فلم میں لیا ہے جو صحیح تاثر قائم نہیں کرسکتے۔ اگر لیاری فلم میں رحمن بلوچ ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں تو شرجیل اسے ولن یا راکھشس بنا کر کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔ سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے اور پیپلز پارٹی لیاری اور دیگر علاقوں کے اصلی اور قدیم باشندوں کے زخموں پر مرہم رکھے ورنہ کراچی کی جنگ ایک نئی کروٹ لے گی اور اس کے اثرات لیاری سے لے کر گھوٹکی تک پورے سندھ کو اپنی لپیٹ میں لیں گے۔


