پاکستان اور افغانستان غیر اعلانیہ جنگ کی فوری خاتمہ کریں، پشتون قوم پرست رہنماؤں کا مطالبہ
ویب ڈیسک : پشتون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی، محسن داوڑ اور خوشحال خان کاکڑ نے ایک مشترکہ بیان میں افغانستان کے پاکستانی ایئر فورس کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہریوں کی اموات پر گہری تشویش اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے بیان میں پاکستان افغانستان کی کشیدگی کو ایک غیر اعلانیہ جنگ قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں سے مسلح تنازع کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جس کے منفی اثرات ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب آباد پشتونوں پر غیر متناسب طور پر مرتب ہو رہے ہیں
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ نہایت تشویشناک ہے کہ اس تنازع کے متاثرین کی بڑی اکثریت ان پشتونوں پر مشتمل ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے بدامنی کا شکار ہیں، اور اگر پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں مثبت تبدیلی نہ لائی گئی تو یہ کشیدگی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی۔ قائدین نے اس بات پر بھی شدید احتجاج کیا کہ قومی سلامتی کے ایسے حساس فیصلوں میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، حالانکہ خارجہ پالیسی میں پارلیمنٹ کا کردار بنیادی ہونا چاہیے۔ بیان میں تاریخی حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ خطے میں جاری انتہا پسندی مقامی معاشروں کی فطری پیداوار نہیں بلکہ 1980ءکی دہائی سے بڑی طاقتوں کی مداخلت اور پراکسی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے جس کے لیے پشتونوں نے “فرنٹ لائن اسٹیٹ” کے نام پر بھاری قیمت ادا کی ہے
اعلامیے میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کو بھی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خطے کے عوام کو مزید جنگوں کی نہیں بلکہ امن، ترقی اور باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔


