امریکا کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایران کا بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
واشنگٹن، تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے ایران پر مسلسل تیسری رات پانچ گھنٹوں تک حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید دو تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے مقامی وقت کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری قیمت عائد کرنے اور ان کی اس صلاحیت کو کمزور بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں شہریوں اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی اہداف پر نئے حملے مکمل کر لیے، ایران کے ساحلی دفاعی نظاموں، میزائل،ڈرون اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سینٹکام کے مطابق ایران میں بوشہر، چاہ بہار ، جسک، کونارک ، ابو موسیٰ اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائیاں پانچ گھنٹے تک جاری رہیں، جن میں امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، اردن میں فوجی اڈے، اماراتی ٹینکروں اور امریکی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس کی بحریہ نے امریکی دشمن کے بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا۔ علاوہ ازیں اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اردنی فضائی حدود میں داخل ہوئے، دفاعی نظام نے 4 میزائلوں کو ناکارہ بنایا، میزائل حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، مختلف مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے، ملبہ ہٹانے کے لیے رائل انجینئرنگ کور تعینات کر دی گئی۔ دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ بحرین میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے، حملے میں فوجی اڈے پر موجود ایندھن کے ذخائر کو آگ لگ گئی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی ریڈار سسٹمز بشمول پیٹریاٹ سسٹم اور کنٹرول سینٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا، حملے ایران کی جاری جوابی فوجی مہم کا حصہ ہے، ایران کی جوابی کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔


