چین سے تجارتی مال لے کر پہلی براہ راست ٹرین ترکمانستان کے راستے افغان صوبہ ہرات پہنچ گئی
کابل (یو این اے) چین سے افغانستان تک پہلی مرتبہ براہ راست ٹرانزٹ ٹرین 500 ٹن تجارتی سامان لے کر ایران کے راستے صوبہ ہرات پہنچ گئی، جسے علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور اقتصادی رابطہ کاری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ٹرین بیجنگ سے روانہ ہوئی اور ایران کی ریلوے نیٹ ورک سے گزرتے ہوئے خواف ہرات ریلوے لائن کے ذریعے ہرات کے روزنک اسٹیشن تک پہنچی۔ ایران افغانستان ریلوے کوریڈور کے سربراہ مصطفی رضائی نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ چین سے افغانستان تک سامان راستے میں اتارے چڑھائے بغیر براہِ راست منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹرین میں تقریبا 500 ٹن فائبر بورڈز لادے گئے تھے، جو بیجنگ سے روانہ ہو کر ترکمانستان اور ایران کے راستے افغانستان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئے زمینی ریل روٹ سے سامان کی ترسیل کا وقت کم ہوگا، لاگت میں نمایاں کمی آئے گی اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ نے بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث چابہار، بندر عباس اور جبل علی جیسے اہم بحری راستوں پر ٹرانزٹ متاثر ہوا، جس سے افغانستان کی درآمدات اور سپلائی چین کو مشکلات کا سامنا تھا۔ چیمبر کے مطابق نئی ریلوے راہداری ان مسائل کا موثر متبادل ثابت ہوسکتی ہے اور افغانستان کو بین الاقوامی تجارتی منڈیوں سے مزید مستحکم انداز میں جوڑنے میں مدد دے گی۔ خوافہرات ریلوے منصوبہ ایران اور افغانستان کے درمیان ایک اسٹریٹجک ریلوے راہداری ہے، جس کی مجموعی لمبائی 225 کلومیٹر ہے۔ اس میں تقریبا 85 کلومیٹر حصہ ایران جبکہ 140 کلومیٹر افغانستان میں واقع ہے۔ 1435 ملی میٹر اسٹینڈرڈ گیج پر تعمیر کی جانے والی یہ لائن ایران اور ترکی کے ریلوے نظام سے مطابقت رکھتی ہے، جس کے باعث مستقبل میں یوریشیائی ریل نیٹ ورک سے بھی موثر رابطہ ممکن ہوگا۔ اس منصوبے پر تعمیراتی کام 2007 میں شروع ہوا تھا اور ایران نے اس پر 660 ملین امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی۔ ریلوے لائن کو چار مراحل میں تقسیم کیا گیا، جن میں ایران کے دونوں حصے 2016 اور 2017 میں مکمل ہوئے، جب کہ افغانستان میں سرحد سے روزنک تک کا سیکشن 2020 میں فعال بنایا گیا۔ روزنک سے ہرات شہر، صنعتی زون اور ہوائی اڈے تک آخری مرحلے پر تعمیراتی کام جاری ہے، جسے آئندہ دو برس کے دوران مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ ریلوے منصوبہ فائیو نیشنز ریلوے کوریڈور کا بھی حصہ ہے، جس کے ذریعے چین، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان اور ایران کو ایک ہی زمینی ریلوے نیٹ ورک میں منسلک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تقریبا 2100 کلومیٹر طویل اس راہداری کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا اہم جز بھی تصور کیا جاتا ہے، جس کا مقصد ایشیا میں تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندر تک براہِ راست رسائی نہ رکھنے والے افغانستان کے لیے اس نوعیت کے زمینی ریل رابطے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگی کے باعث بعض بحری راستے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول اس راہداری سے جہاں درآمدات کی لاگت کم ہوگی وہاں معدنیات، زرعی اجناس اور دیگر مصنوعات کی برآمد کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم ماہرین نے اس منصوبے کی طویل المدتی کامیابی کے لیے علاقائی استحکام، سیکورٹی، مالی وسائل اور ایران، افغانستان، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان مسلسل تعاون کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ عوامل برقرار رہے تو خوافہرات ریلوے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے۔


