کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں من مانا فرق اور ہوشربا اضافہ، شہریوں کا شدید تشویش کا اظہار
کوئٹہ( مانیٹرنگ ڈیسک) شہر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مختلف علاقوں میں ایک ہی معیار کے آٹے کے مختلف نرخوں پر فروخت نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آٹے جیسی بنیادی غذائی ضرورت کی قیمتوں میں نمایاں فرق کے باعث صارفین شدید پریشانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں، جبکہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہےشہریوں کے مطابق کوئٹہ کے مختلف علاقوں اور بازاروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کے نرخ یکساں نہیں ہیں۔ بعض علاقوں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 250 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض دکانوں پر یہی تھیلا 2 ہزار 950 روپے اور کہیں 2 ہزار 850 روپے میں دستیاب ہے۔ اسی طرح 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بھی مختلف علاقوں میں مختلف بتائی جا رہی ہے، کہیں یہ 7 ہزار 300 روپے، کہیں 7 ہزار روپے جبکہ بعض مقامات پر اس سے مختلف نرخوں پر فروخت ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ہی شہر اور ایک ہی مارکیٹ میں آٹے کے نرخوں میں اتنا نمایاں فرق صارفین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری سطح پر آٹے کے نرخ مقرر کیے گئے ہیں تو ان پر عملدرآمد یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے، تاہم عملی طور پر مختلف دکاندار اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق قیمتیں وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں شہریوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ مختلف دکانوں پر سینکڑوں روپے کا فرق عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ خصوصا دیہاڑی دار، مزدور، کم آمدن والے ملازمین اور متوسط طبقے کے خاندان بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ استعمال کی اشیا پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہیں، ایسے میں آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ عوام کی قوت خرید کو مزید کم کر رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جائے اور اس امر کی تحقیقات کی جائیں کہ مختلف علاقوں میں ایک ہی وزن اور معیار کے آٹے کے نرخوں میں اتنا فرق کیوں پایا جا رہا ہے شہریوں کے مطابق بازاروں میں سرکاری نرخ نامے آویزاں ہونے کے باوجود اگر دکاندار مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کر رہے ہیں تو یہ انتظامی نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نرخ نامہ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے فیلڈ میں مثر کارروائی بھی ضروری ہے۔وزیراعلی بلوچستان سے فوری نوٹس، روزانہ نرخوں کی نگرانی اور گرانفروشوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہیں شہریوں نے وزیراعلی بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ شہر کے تمام علاقوں، بازاروں اور دکانوں میں آٹے کے نرخوں کی مثر نگرانی کی جائے۔ شہریوں نے کہا کہ آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ سروے کرایا جائے تاکہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان فرق سامنے آ سکے انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرائس کنٹرول ٹیموں کو فعال کرکے مختلف بازاروں میں اچانک چھاپے مارے جائیں، آٹے کے معیار اور وزن کی بھی جانچ کی جائے اور سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کرائے جائیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں، ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے شہریوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کو صرف شکایات موصول ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے باقاعدہ اور مستقل بنیادوں پر مارکیٹوں کی نگرانی کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں استحکام لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ قیمتوں میں بے قابو اضافے کا براہ راست اثر عام آدمی کے باورچی خانے اور ماہانہ بجٹ پر پڑتا ہے شہریوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلی بلوچستان، کمشنر کوئٹہ اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آٹے کے نرخوں میں پائے جانے والے واضح فرق کو ختم کرنے، سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد کرانے اور عوام کو مناسب نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔


