آبادی کو کہا جائے کہ دہشتگردی کیخلاف اپنی دفاع کیلئے تھوڑی بہت اہلیت پیدا کریں تو اعتراض والی بات کیا ہے؟مشیر وزیراعظم
ویب ڈیسک : وزیراعظم کے مُشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر بلوچستان یا خیبر پختونخواہ میں آبادی سے کہا جائے کہ وہ دہشت گردوں سے لڑنے کیلئے اپنے اندر کچھ اہلیت پیدا کریں تو اسکا یہ مطلب لینا غلط ہے کہ ریاست لوگوں کو لشکر بنانے کا کہہ رہی ہے بینکس بھی تو اپنی حفاظت کیلئے سیکیورٹی گارڈز رکھتے ہیں ۔ کالعدم ایکشن کمیٹی نے غلط راستہ اپنایا، آئینی و قانونی معاملات دھرنے یا احتجاج سے حل نہیں ہوتے بلکہ یہ قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا نے کہا آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جارہے ہیں، ن لیگ آزادکشمیر کی تمام نشستوں پر کامیاب ہوگی، اسمبلی بنے گی 12 نشستوں کا معاملہ پھر وہاں لے جائیں۔انہوں نے کہا ایٹمی پروگرام پاکستان کی بقاکی ضمانت ہے، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی۔رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنا بیان واپس لے لیں تو اس میں ان کی بڑائی ہے۔رانا ثنا اللہ بولے, ہنہ اوڑک میں دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے بہت سارے لوگ جانا چاہتے تھے، آبادی کو کہا جائےکہ دہشتگردی کیخلاف اپنی دفاع کیلئے تھوڑی بہت اہلیت پیدا کریں تو اعتراض والی بات کیا ہے، لگتا ہےکہ مولانا صاحب سے جوش خطابت میں بات ہوئی اس کے پیچھےکوئی لمبا چوڑا ایجنڈا نہیں۔


