منتخب بلدیاتی نمائندوں نے وڈھ ضلع کی انتظامی حدود میں تبدیلی کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) تحصیل وڈھ کو ضلع کا درجہ دیے جانے کے باوجود ضلع کا ہیڈکوارٹر نال میں قائم کرنے، جبکہ یونین کونسل سارونہ کو ضلع حب اور یونین کونسل شاہ نورانی و کلغلو کو ضلع لسبیلہ میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلوں کو بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کر دیا گیا۔ درخواست منتخب بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ فیصلے مقامی عوام کی انتظامی سہولت، جغرافیائی حقائق، تاریخی حیثیت اور عوامی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ درخواست میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ ان فیصلوں کا آئینی و قانونی جائزہ لیتے ہوئے انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق مناسب احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست گزاروں میں میونسپل کمیٹی وڈھ کے چیئرمین خان محمد مینگل، یونین کونسل آڑینجی کے چیئرمین میر حاجی محمدحسن مینگل یونین کونسل شاہ نورانی کے چیئرمین خلیفہ محمد جعفر، یونین کونسل کلغلو کے چیئرمین محمد رحیم، یونین کونسل سارونہ کے چیئرمین میر اللہ ڈنا، یونین کونسل لوپ کے چیئرمین حاجی شبیر احمد، یونین کونسل دودکی کے وائس چیئرمین امام شاہین، یونین کونسل واڑ شاہیزئی کے چیئرمین محمد اختر، یونین کونسل تیرکاشی کے چیئرمین زکریا مینگل، یونین کونسل سراچو کے چیئرمین احمد گزگی، یونین کونسل دراکھالہ کانیڈل کے چیئرمین مجاہد عمرانی، اور یونین کونسل ہنامی کے بینٹ ممبر سکندر غازی شامل ہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وڈھ ضلع کی انتظامی حدود، ضلع ہیڈکوارٹر کے تعین اور متعلقہ یونین کونسلوں کی تقسیم سے متعلق حکومتی فیصلوں پر نظرِ ثانی کی جائے، تاکہ مقامی عوام کے آئینی حقوق، انتظامی سہولت اور جغرافیائی حقائق کے مطابق منصفانہ فیصلہ یقینی بنایا جا سکے۔ یہ آئینی درخواست ایڈووکیٹ آغا حسن بلوچ اور ایڈووکیٹ جاوید احمد کے توسط سے بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر کی گئی، جنہوں نے درخواست گزاروں کی جانب سے قانونی نکات عدالت کے روبرو پیش کیے۔ درخواست گزاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ آئین اور قانون کی روشنی میں عوامی مفاد اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ صادر کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں