محسن نقوی نے سسٹم کو مضبوط کرنا ہے تو آغاز نیشنل ایکش پلان میں تبدیلی پر عملدرآمد سے کریں ، خواجہ آصف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سسٹم کو مضبوط کرنا ہے اوربنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا فورم پارلیمنٹ ہے جس کے محسن نقوی رکن ہیں۔ میں نے محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کی کسمپرسی پر اظہارِ خیال کو سنا ہے اور ذاتی طور پر وہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتے ہیں۔ محسن نقوی خود ایک پاور ہاو¿س ہیں تاہم اگر سسٹم کو مضبوط کرنا اور بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے جس کے نقوی صاحب خود بھی رکن ہیں۔ اس معاملے کو کابینہ میں بھی زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے، جس سے یہ ادارے اور نظام مضبوط ہوں گے اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔سسٹم کا ارتقائی عمل دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے تابع رہا ہے جسے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ محسن نقوی پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاس میں کبھی کبھار ہی شرکت کرتے ہیں، ان اداروں کو غیر متعلق بنا کر تاجر برادری کو بلا کر اتنی بڑی بات کرنا ان کے نزدیک مطلوبہ اثر نہیں رکھتا۔ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین سال سے نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر فائز ہیں اگر وہ چاہتے تو اس عرصے میں سسٹم میں تبدیلی کے حوالے سے پیشرفت کر سکتے تھے تاہم دیر آید درست آید۔خواجہ آصف نے نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کے 13 نکات کا ذکر کیا، جن میں سے ایک پوائنٹ پر عملدرآمد افواج کی جانب سے جانوں کی قربانیوں کے ذریعے ہو رہا ہے، جبکہ باقی 12 نکات وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہیں جن پر عمل نہیں ہوا۔ محسن نقوی سسٹم میں تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں اور اپنی وزارت سے اصلاحات شروع کریں، صرف تاجر برادری ہی نہیں بلکہ پوری قوم سسٹم میں مثبت تبدیلی کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں