ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز پر بحری آمد و رفت کی بحالی کے حوالے سے معاہدہ ممکنہ طور پر بدھ کو طے پا سکتا ہے، امریکا
امریکی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز پر بحری آمد و رفت کی بحالی کے حوالے سے معاہدہ ممکنہ طور پر بدھ کو طے پا سکتا ہے۔سکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے توانائی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔انھوں نے کہا کہ ’ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ آج یا کل ہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچ جائیں اور اس تنازع میں زیادہ معمول کی صورتحال کی جانب بڑھیں۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی ٹیرف رعایت ملے گی تو بیسنٹ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ نقل و حرکت کی آزادی ہوگی۔‘امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے جلد دوبارہ کھلنے کے بارے میں امید کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے آبنائے ہرمز کے انتظام کے طریقہ کار پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ جبکہ ایرانی حکام امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
روئٹرز نے ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تہران، مسقط کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے جہازوں پر کنٹرول اور آبی گزرگاہ سے ان کے باہر نکلنے کی معلومات کا مطالبہ کر رہا ہے۔عہدیدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تاہم کہا گیا کہ وہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں شامل ہیں۔ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’مسقط تہران کو مطلع کرنے کے بعد اجازت نامہ جاری کرے گا۔‘


