بابائے استمان میر غوث بخش بزنجو و میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو
تحریر: قاضی عبدالحمید شیرزاد
بابا بزنجو کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ نا بالغہ روزگار شخصیت نرم مزاج متحمل ناپید شخصیت تھے آپ کی ولادت میر سفر خان بزنجو کے گھر بمقام شنرعی جھاﺅ موجود ضلع آواران میں ہوئی آپکی ولادت سن 1917 ہے آپ صغیر سن تھے کہ والد محترم رحلت فرما گئے آپ کی سرپرستی سر دار کھیرا خان سپرد کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے آپکو ذہانت کی نعمت سے بدرجہ اتم نوازاتھا آپ بردبار نرم مزاج انسان تھے ایام جوانی میں جذبہ حریت سرزمین سے محبت سے سرشار تھے زندگی بھر بردبادی سے سیاسی جہد کی ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب رہے، یوسف عزیز مگسی کے بعد بلوچستان اور مظلوم و محکوم کی خدمت اور بیداری آپکے حصہ میں آئی،بلوچستان کے تمام سرداراور قوم پرست آپ کو اپنا سیاسی استاد سمجھتے اور مانتے تھے۔ اپنے سیاسی زندگی میں کبھی بھی مہم جوئی نہیں کی آپ ریاست بلوچستان کے دیوان عام کے ممبر رہے بزرگان مستونگ میر عبدالعزیز کرد،ملک عبدالرحیم خواجہ خیل،میر گل خان نصیر،ملک فیض محمد کے ساتھ شانہ بشانہ رفاقت کی۔ نواب اکبر خان بگٹی شہید ،سردار عطاءاللہ مینگل ودیگر زعماءآپکو استاد سیاست کہتے تھے۔میر صاحب کی برسی کے موقع پر بزنجو اسٹیڈیم میں لاکھوں افراد سے خطاب میں انہوں نے فرمایا کہ میر بزنجو ہمارے سیاسی حربی تھے۔ہم اور آپ بزنجو صاحب کے مرہون منت ہیں سردار محمد زمان محمد شہی جو نیپ سے قبل قلات نیشنل پارٹی کے صدر تھے میر عبداللہ جان محمد شہی،بابو عبدالحق محمد شہی ،میر بلال جمالدینی،ماما محمد حنیف جان جمالدینی،سردار اسد اللہ خان شہید ،کیپٹن خدا بخش بادینی،میر اکرم خان مینگل،خالد مینگل،بابو شورش اسی طرح کافی دیگر رفقاءآپ کی فکر کے پیداوار تھے۔سیاسی مخالفین کی عزت کرتے،ایک دفعہ سردار دودا خان زہری کے بارے میں میر صاحب نے فرمایا کہ سیاسی اختلافات سے قطع نظر دودا خان زہری ایک بہادر غیرت مند شخصیت کے مالک تھے میرے اپنے بڑے اچھے تعلقات سردار دو دا خان سے تھے ۔زہری سردار کے فرزندان بے حد احترام کرتے ہیں،میرنے اپنی سیاسی زندگی کو مثبت انداز میں گزارا۔میر ڈاکٹر عبدالواحد میروانی کو سوراب میں پارٹی کا عظیم مرتبہ دیا،ڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی اور بزرگواران ملک عبدالولی کاکڑ کو بلوچ پشتون اتھاد کا علمبردار سمجھتے تھے یہی صفت ان فرزند سابق گورنر ملک عبدالولی کاکڑ میںموجود تھے یہ امر واضح رہے کہ تعداد میں آغا برادری،عبدالظاہر کا دولت خانہ سیاسی معاملات کے طور پر قابل ذکر ہے۔گو کہ اب بھی یہ گھرانہ سلطان ابراہیم خان احمد زئی کے نام کے ساتھ اہل بلوچستان کے لئے محترم ہے۔سردار عار جان محمد حسنی،سردار حبیب اللہ قمبرانی آواران کے میر مولانا بخش بزنجو خصوصاً میر محمد رحیم بزنجو وغیرہ قابل ذکر ہیں ،میر صاحب نے نجیمحافل میں کبھی بھی سیاسی مخالفین کے لئے غلط لفظ تک استعمال نہیں کیا،آپ فرماتے تھے سیاست میں اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اور اس سے فر د یا افراد کی زندگی کوعملی تقویت ملتی ہے،تمام اکبر خان مستی خان فیملی لیاری ،لالا لعل بخش رند،یوسف نسکندی،مجاہد بریلوی جوانوں میں فیض بلوچ وغیرہ خدمت میں پیش پیش رہے،تربت کے ملا برکت ،شئے حیدر ،ناکو ایوب گچکی،میر اسدا للہ گچکی ودیگر ساتھ رہے ،گوادر میں ناکو حسین اشرف،کہدہ عصائ،غفار ہوت ،سینیٹر ڈاکٹر محمد اسحاق ، عبدالحمید سہرابی پسنی کے شئے برادران قابل ذکر ہیں،دور حاضر میں یار جان بادینی رسالہ مئے زند کے مدیر اپنی بساط کے مطابق خدمات سر انجام دے رہے ہیں،سردار مرحوم عبدالکریم ساجدی،انور ساجدی کا کردار بھی قابل ذکر ہے ،آزاد جمالدینی،ماما عبداللہ جان جمالدینی،ملک عثمان کاسی،سردار بہادر خان بنگلزئی،میر خدا داد خان مرغزانی قابل تحسین ہیں،اللہ تعالیٰ کر ے کہ یہ جہد جاری و ساری رہے ،میر عبدالرحمن شاہوانی کی خدمات ماما بابو عبدالرحمان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔


