میر غوث بخش بزنجو، بین الاقوامی سیاست دان

تحریر: ڈاکٹر عطاءاللہ بزنجو

موجودہ حالات بین الاقوامی ، ملکی اور خصوصاً بلوچستان کے اندرانتہائی کشیدہ اور ابتر ہیں ۔ سرمایہ داری نظام کو برقرار رکھنے کے لیے جس طرح امریکہ اور اسرائیل اپنے حواریوں کے ساتھ حالات کو تیسری جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، وہاں چین اور اس کے حواری اس گیم میں بخوبی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ملکی حالات ایک طرف انار کی کا شکار ہیں تو دوسری طرف بلوچستان آگ میں جل رہا ہے، جہاں کشت و خون کا بازار گرم ہے، سیاست رہی نہ سیاسی فیصلے ، گاڑی کی سمت یک طرفہ ہے اور سب اس میں سوار ہیں ، بازی اور باری کی جنگ ہے۔ ۔ ایسی تکلیف دہ صورت حال سے بابا بزنجو بھی گزرے تھے ، جن کو شگان، بہتان اور مزاکرات کے القاب سے نوازے گئے، لیکن آج ان حالات اور کشیدہ صورت حال میں موجودہ دور کی سیاست کہاں کھڑی ہے؟ قیادت کہاں ہے؟ دور اندیشی کہاں ہے؟ بلوچستان ان تمام حوالوں سے سوال کر رہا ہے مگر جواب نہیں۔ حقیقی اور نظریاتی ورکرزمایوسی کا شکارہیں، نظریہ ، سیاست کہیں کا نہ رہا۔ ایسے میں بابا بزنجو اور ان کے رفقاءکی کیونکر یاد نہ آئے۔ آج دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال، امریکہ اسرائیل، ایران، فلسطین ، روسی اور یوکرائنی جنگ اور خصوصاً بلوچستان کے اندر گزشتہ برسوں سے جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں دور اندیش رہنما بابا بزنجو کے سائے سے محروم ہم تقسیم در تقسیم کے مراحل سے دو چار ہیں۔ آنے والے حالات اور ان کے اثرات ابھی سے جس طرح ہم پر پڑ رہے ہیں ان کو دیکھ کر بابا بزنجو کی شدید کمی محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں بابا بزنجو کی جمہوری و عملی سیاست، ان کے تبصرے اور سیاسی بصیرت ان کے بتائے ہوئے مشاہدے جس طرح سچ ثابت ہوئے ہیں ان کا اندازہ آج عرب ممالک کے اندر افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اور سویت یونین میں جو آخری مرتبہ آپ نے گورباچوف اور دیگر عالمی رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کی اور سویت یونین کے اندرونی حالات کا جو جائزہ لیا اور جو پیش گوئی کی اور ان کے اثرات دنیا پر کس طرح اثر انداز ہونگے وہ آج سب کے سامنے ہیں۔
آج جس طرح بین الاقوامی سامراجی قوتوں نے جس تیزی کے ساتھ بلوچستان کا رخ کیا ہے اور جن کے اثرات آنے والے دنوں میں ہم پر جس طرح اثر انداز ہونے جارہا ہے وہاں ہم قابل فخر بابائے بلوچستان جیسے ہستی کے ہونے اور تجزیوں سے محروم ہیں۔
میر غوث بخش بزنجو نے طویل قید و بند کی زندگی گزاری۔ وہ ہمیشہ اپنے اصول ،قول و فکر اور نظریے سے جڑے رہے۔ میر بزنجو کی سیاست کی سمت ہمیشہ یک طرفہ رہی۔ اُنہوں نے جمہوریت کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ جمہوریت کو پروان چڑھایا۔ بلوچ لیگ استمان گل، قلات نیشنل پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، پاکستان نیشنل پارٹی، ایم آر ڈی، اے آر ڈی کے پلیٹ فارم ہوں یا کوئی مزدور تحریک، ٹریڈ یونین، طلباءتحریک، ڈیمو کریٹک فورم سے لیکر ہر اُس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالا جہاں جمہوریت اور خود مختاری کی بات کی گئی۔ بابا بزنجو ایک ایسی شاندار تاریخ رکھتے ہیں جس کا ہر صفحہ جمہوریت کا پرچم لیے لہرا رہا ہے۔
معاشرے کے اندر اپنا نمایا کردار ادا کرتے رہے گو کہ اُن کے سامنے اپنوں سے لیکر حکمرانوں تک ہر قسم کی رکاوٹ کا سامنا رہا مگر وہ سہتا گیا اور آگے بڑھتا گیا اُن کی زندگی کا نام ہی جدوجہد ہے۔ ورنہ تاریخ اُنہیں آج ایک با اُصول شخصیت کے طور پر کیونکر یاد کرتی، بہت یاد آو¿ں گا۔۔۔ ڈھونڈیں تجھے کہاں ہو بابا۔ کتنے دکھ دیے تمہیں، کتنی اذیتیں دیں آپ کو، کتنے تمہارے خلاف بولے، کتنا تمہارے خلاف لکھے، مگر آپ نے کچھ نہیں کہا۔ خندہ پیشانی سے قبول کرتے رہے کچھ کہے بغیر آگے بڑھتے رہے۔ مخالفین سے بھی ایسی محبت آپ کو بابا بزنجو سے ہی ملے گی۔ یہ میرے سیاسی وارث ہیں ایسی باتیں بابا بزنجو بول سکتے ہیں اتنے کشادہ دل کے مالک، اتنی بصیرت، اتنا وژن چہرے پہ اتنا نور اور مسکراہٹ ”جو سجا ہے ان کے رخ پر، یہ تمہارا خون ہے لوگو“ ۔
1935ءکے زلزلے سے محفوظ رہے کوئٹہ کے اس تباہی سے جہاں ہزاروں جانیں نگل گئی اور بہت بڑے ترقی پسند شخصیت یوسف عزیز مگسی سے ہم ہاتھ دھو بیٹھے۔ جامعہ یوسفیہ تکمیل انسانیت، انجمن بلوچاں اتحاد، فریاد بلوچستان یوسف عزیز مگسی ایک ایسے دور میں ہم سے چلے گئے، جن کی انتہائی ضرورت تھی 27 سال تک کی عمر میں وہ میسر انداز سے انہوں نے بلوچوں کی تحریک اور جہدو جہد میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ ترقی پسندانہ خیالات کے مالک کٹھن سرداری و نوابی اور جاگیرداری دور میں جس طرح وہ لیڈ کر رہے تھے یقینا آگے چل کر مزید ابھر کر سیاسی دائرے میں شامل ہو کر حقوق کی اس جنگ میں نمایاں ہی رہتے لیکن وقت بھی ظالم ہے اور مادر وطن کا بہترین فرزند یوسف عزیز مگسی زلزلے کی نذر ہو گئے۔ اس کے بعد بابا بزنجو کا سفر شروع ہوتا ہے یوسف عزیز مگسی اور میر عبدالعزیز کرد کے بعد یہ جاری جدو جہد بابابز نجو، ملک فیض محمد یوسفزئی محمد حسین عنقا، میر گل خان نصیر بابو عبد الکریم شورش و دیگر رفقاءکی شکل میں سامنے آئیں۔ اس تباہ کن زلزلے کے بعد بابا بزنجو کاسفر کراچی اور پھر علی گڑھ یونیورسٹی میں ایک مایہ نیاز فٹبالر کی حیثیت سے قدم رکھا نوجوان بابا بز نجوعلی گڑھ یو نیورسٹی کے سیاسی ماحول سے اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہے سکے کانگریس سوچ کے حامل با با بزنجو ایک کچا کشادہ ذہن کا مالک رنگ،نسل اور تعصب سے بالا تر ہو کر اس ادارے کی تربیت گاہ میں اپنا سیاسی سفر شروع کرنے لگا اور کانگریس کے پالیسیوں نے میر بزنجو کے دل و دماغ کی کھڑکیوں کو روشن خیالی سے اور بھر دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے ماحول میں جو اثرات میر بزنجو پر چھوڑے وہ واپس آکر سخت گیر جمہوری موقف اپنانے اور بلوچستان کے حالات کی تبدیلی کیلئے بڑی حد تک کافی تھے اور بلوچستان کا یہ بابائے بلوچستان ،بابائے استمان بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا انقلابوں کا اور جمہوری رویوں کا پاسباں اپنے خطے میں جمہوری جدو جہد کو پروان چڑھانے میں جو کلیدی کردار ادا کیا وہ آج سب کے سامنے ہے۔ ون یونٹ کے خلاف زندانوں میں یکساں قیادت اور جدو جہد میں سرفہرست رہے ہیں۔
بابا بزنجو کی سیاسی جدوجہد علی گڑھ یونی ورسٹی کے بعد جب کراچی تشریف لائے وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کانگریسی خیالات کے حامل ابو الکلام آزاد اور نہرو جیسی شخصیات کے قریب رہے۔ جدوجہد کے اس سفر میں آپ ہمیشہ سرخ رو رہے۔ اور ڈٹ کر مارشلائی آمریت کا مقابلہ کیا۔
1957ءمیں نیپ کی تشکیل اور 1958ءکو سکندر مرزا نے مارشلا کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اسمبلیاں توڑ دی گئیںاور ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا دور شروع ہوا۔
ایوبی آمریت کا دور۔ ون یونٹ کا قیام، سیاسی پابندیاں، گرفتاریاں، مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ، آئین کی پامالی، فسادات کا دور جس نے پورے ملک کو اندھیرے میں دھکیل رکھا تھا۔ جس کی گرفت روز بروز مضبوط ہوتی جارہی تھی، تو دوسری طرف نیپ کے سرکردہ لیڈراں پابند سلاسل۔ ظلم و جبر اور مارشلائی گرفت میں مگر ”ایسے دستور کو صبح بے نور میں نہیں مانتا“ ۔ کا سلسلہ بھی چل رہا تھا۔ جہاں بزنجو اور ان کے رفقاءہر اول دستے کا کردار ادا کررہے تھے۔ اذیت اور تشدد بھی ان کا راستہ نہیں روک سکا۔ جب اور جہاں موقع ملتا ون یونٹ کے خلاف صف اول کا کردار اور حکمرانی کے خلاف جمہوریت کا پرچم بلند کیے ہوئے میدان عمل میں عملی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ (1957ءمیں نیپ کی تشکیل اور جیل آباد ہونے لگے، قلی کیمپ میں اذیتیں زور پکڑنے لگی۔ نواب نوروز خان سے لیکر بزنجو، گل خان نصیر و دیگر رفقاءایوبی آمریت میں سخت ترین دن گزار رہے تھے۔ ہمارے یہ رہبر مشکل دور میں بھی اپنے اصولوںپر نہ سودا بازی کی بلکہ اپنے موقف کے ساتھ جہد مسلسل کو جاری رکھا۔ مارشلائی دور میں تو بابا بزنجو کو پاکستان کی مختلف جیلوں (قلی کیمپ، کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل، مچھ، حیدر آباد، ساہیوال، گجراں والا وغیرہ) میں بھیج دیا جاتا تھا۔ یاکہ اُن پر پابندی لگاکر مکران بدر، مستونگ بدر، اسلام آباد ریسٹ ہاو¿س، خضدار مشکے جہاں کہیں بھی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرتے تو گرفت میں لے لیے جاتے۔ بابا بزنجو اپنے دیگر رفقاءکے ہمراہ جب کبھی جیل سے رہا ہوئے یاکہ پابندیوں میں نرمی لائی گئی وہ متحرک نظر آتے، جلسوں میں، میٹنگوں میں، دوروں پر، جیل کے اندر ساتھیوںکی رہائی کے لیے تگ و دو،نواب نوروز خان کے لیے ذاتی حیثیت سے وکیل اور جب وکالت نامے پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو بابا بزنجو پھر گرفتار۔ بابا بزنجو نے پوری زندگی اسی سفر میں اپنا سفر جاری و ساری رکھا، گویا انہیں آرام کرنے کا وقت بھی نہیں ملا۔ واقعی بابا بزنجو سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتے رہے اور اپنوں سے طعنے کھاتے رہے۔ لوگ انہیںبابائے مذاکرات کہتے رہے اور وہ بابائے استمان بابائے بلوچستان کہلائے اور اپنی زندگی کے اس سفر میں پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا
بڑا کھٹن ہے راستہ آسکو تو ساتھ دو
یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو
آمریت کے یہ وہ کٹھن دور تھے جو اس کٹھن زندگی کا فاصلہ طے کرسکا وہ ساتھ دیتا گیا۔ کیونکہ نواب کا لا باغ، بھٹو جیسے شخص جو نہ صرف 1965ءکی جنگ کا ذمہ دار بلکہ 1971ءمیں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے بھٹو کا کردار بھی واضح ہے۔ اور آگے چل کر انہوں نے بلوچستان اور نیپ حکومت کے ساتھ جوکیا اُسے تاریخ دہراتی رہے گی۔ بھٹو کی جاگیرداریت ، خود انائی نے اُسے جس مقام پر پہنچایا وہ سب اُس کا اپنا کیا ہوا تھا۔ ایوبی آمریت ہو ، 1965ءکی جنگ ہو یا کہ 1971ءکے سنگین حالات جس نے بنگلہ دیش کو جنم دیا۔ بات یہاں آکر نہیں رکتی بلکہ ضیاءکی آمریت کا دور بھی نیپ کے رہنماو¿ں نے سہا جس میں بھٹو نے بلوچستان اور ان رہنماو¿ں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔ اس کھٹن دور میں اگر میں حبیب جالب کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہوگی۔ ایسے دستور کو نہ ماننے اور صر صر کو صبا۔ بندے کو خدا کیا لکھنا انہی دور کی، جبر ، ظلم اور بربریت سے جنم لی ہیں۔ جہاں ظلم ہوگا تو وہاں حبیب جالب جیسے انسان بھی پیدا ہونگے جنہوں نے ہر آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بھٹو دور کی ظلم و بربریت جاری تھی، حبیب جالب اپنے دوستوں کے ہمراہ شام کے وقت کراچی کی سڑکوں پر اس گردش میں تھے کہ کہیں سے شاید کچھ مل جائے، اسی دوران میر رسول بخش تالپور صاحب کا فون گورنر ہاو¿س سے آجاتا ہے جو حبیب جالب کو گورنر ہاو¿س آنے کے لیے اسرار کررہے ہوتے ہیں۔ سنیے حبیب جالب کا جواب” بھٹو نے نیب کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور آپ کہتے ہیں میں گورنر ہاو¿س آجاو¿ ںاس کے بعد بھٹو یہی کہیںگے کہ جالب ایک دو پیگ پینے آئے تھے۔ میں تو آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گاآپ اس قید خانے سے نکلیں زیادہ عرصہ نہیں رہ پاو¿گے “اور آگے چل کر ایسا ہی ہوا۔ عطاءشاد نے سچ کہا ہے ”یہ عمر بھر کا ساتھ ہے آسکو تو ساتھ دو“ اور ہمارے یہ اکابرین پوری زندگی اسی جدوجہد، سچ اور جمہوریت کی جنگ لڑتے رہے۔
بابا بزنجو اور ان کے رفقاءکے خلاف مارشلائی جنگ جاری تھی ون یونٹ توڑ دو والی 50 روپے کے نوٹ جو بزنجو کی جیب سے برآمد ہوئے تھے انہیں اذیت گاہ تک لے جانے کے لیے کافی تھی۔ ویسے بھی وہ کہیں بار ان اذیت گاہوں میں رہ چکے تھے مگر اس بار کوئٹہ جیل سے 14 سال کی سزا کے بعد ساہیوال جیل (منٹگمری ) منتقل کیے گئے ۔جیل میں انہیں سخت سے سخت اذیتیں دینے لگے۔ قید ِتنہائی جوکھنڈرات کا منظر پیش کررہا تھا کیڑے مکوڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ بابا بزنجو اپنی سوانحی عمری بی ایم کٹی کی کتاب میں کہتے ہیں” سخت گرمی میں جہاں مجھے رکھا گیا تھا وہ حشرات سے بھرا ہوا تھا، لگتا تھا برسوں سے یہ بھوکے ہیں۔ کیڑے مکوڑوں کے بیچ میرا خون انہیں خوراک فراہم کرتا رہا۔ جس سے میرا وزن کم ہوگیا تھا۔ ایوب خان شاید اپنی شکست کا بدلہ لے رہے تھے جو کچھ اُن سے ہوا کرتے رہے اس کے بعد مجھے اچانک سرگودھا جیل منتقل کیا گیا وہاں پھر قید تنہائی، اسی طرح کا ہی سلوک 1958-1959ءمیں قلی کیمپ میں ہمارے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ البتہ سرگودھا جیل میں کاکروچوں سے جان چھوٹ گئی تھی۔“ لیکن انقلابی شاعر ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے:
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
بزنجو جیل میں اور نیپ کے درمیان آپس میں اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے اور آخر کار بھاشانی کی جگہ ولی خان نے لے لی یہ وہ دور تھا جہاں مارشلائی ظلم وستم عروج پر تھا تو دوسری طرف بائیں بازو کی قوتیں بھی اپنی صفوں کے اندر مضبوطی کے ساتھ جڑتے ہوئے برسرِ پیکار تھے۔ ایوبی آمریت کو خطرہ لاحق ہوگیا اور حبیب جالب کی شاعری اس میدان جنگ کو مزید ہوا دیتی گئی۔ ایوبی گول میز کانفرنس بھی کام نہ آئی البتہ عبد الصمد اچکزئی اور جی ایم سید کا راستہ یہاں سے الگ ہوگیا۔ ایوب خان کی جگہ یحییٰ خان نے لی اور مری میں ایوب کی جگہ یحییٰ خان کی تصویر آویزاں ہوگئی جہاں ایک تقریب کی صدارت فیض احمد فیض کررہے تھے اور اسٹیج پر حبیب جالب کو بلایاگیا تو انہوں نے کہا:
”تم سے پہلے وہ جو ایک شخص یہاں تختِ نشین تھا
اُس کو بھی اپنے خدا ہونے پر اتنا ہی یقین تھا“
طویل مارشلائی دور کے بعد 1970ءکو الیکشن ہوئے۔ یوں نیپ کو کامیابی ملی اور مشرقی پاکستان بازی لے گیا۔ اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو گئی اور بھٹو تخت نشین ہوئے۔ نیپ کی حکومت بھی ختم کردی گئی اور پوری قیادت دوبارہ جیل میں ڈال دی گئی۔ جیل سے رہائی کے بعد نیپ کے لیڈراں اختلافات کا شکار ہوگئے اور ہر کسی نے اپنی پارٹی تشکیل دے دی۔ کچھ ملک کے اندر کچھ ملک کے باہر چلے گئے۔ بابا بزنجو نے آخری عمر تک یہیں رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ضیاءکے مارشلا کا سامنا کیا قید و بند اور پابندیوں کا سلسلہ برقرار رہا 1988ءالیکشن میں دونوں سیٹوں سے الیکشن ہار گئے اور نوجوانوں کو اپنا سیاسی وارث قرار دیا۔ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوئے اور مرتے دم تک اسکا مقابلہ کیا بسترِ مرگ تک جمہوری جدوجہد جاری رکھی انکے یہ الفاظ ”میں نے وطن اور اہل وطن سے عشق کیا ہے اس میں کہاں تک کامیاب رہا اس کا فیصلہ عوام کرینگے۔“ بابا بزنجو نے اپنی زندگی کا آخری سفر بھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں (کراچی سے نال تک) کے ذریعے کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ ”ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے روز ہمارے عوام آتے جاتے ہیں ہیں‘میری جان میت کو بھلا یہاں سے گزرتے ہوئے کیا ہوگا“۔
بابا بزنجو کے اس زمانے کے کیے گئے تجزیے اور تبصرے آج سب کے سامنے ہیں۔ جس کی لپیٹ میں آج ایران سے عراق، یمن، سعودی عرب، فلسطین ، شام اور افغانستان تک سب ہیں۔ میر بزنجو نے کہا ”ملک کے عوام اور حکمرانوں کو کم از کم یہ ادراک کرنا چاہیے کہ ایران کے انتشار کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کے نتائج بے حد دور از کار ہوں گے اور یہ حتیٰ کہ خطے کے جغرافیے کو بالکل تبدیل کرسکتا ہے۔“
میر بزنجو کے کیے گئے تجزیے اور وژن کو دیکھا جائے (جس طرح امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایران پر حملہ کرکے جنگی میدان میں کود پڑا ہے ،اسرائیل نے فلسطین پر پہلے ہی سے بمباری کرکے غزہ کو نیست و نابود کردیا ہے جو تاحال جاری ہے) تو زمینی حقائق وہی کچھ بول رہے ہیں جن کا انکشاف بزنجو صاحب نے پہلے کی کیا تھا۔ بابا بزنجو کے وہ الفاظ آج بھی یاد ہیں جنہوں نے مشرق ِ وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب اوردیگر خلیجی ممالک اس بات سے غافل ہیں کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں ہوسکتا اور مستقبل میں خلیجی ممالک کو جو نقصان اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا وہ تصور نہیں کرسکتے ۔ اور آج اسرائیل جس طرح فلسطین پر حملے کررہا ہے، اسی طرح ایران کی طرف سے خلیجی ممالک میں شدید بمباریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکی دوستی کا صلہ انہیں مل رہا ہے۔
افغان پناہ گزینوں کے متعلق بابا بزنجو نے کہا ”میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ ان پناہ گزینوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیجنے کا واحد راستہ کا بل حکومت کو تسلیم کرنا اور اسکے ساتھ مذاکرات ہیں۔ اگر یہ جلدی ممکن نہیں ہوتا اور معاملے کو طول دیا جاتا ہے تو انہیں واپس بھیجنا نا ممکن ہوجائیگا۔“
پروفیسر شاہ محمد مری بابا بزنجو کے متعلق لکھتے ہیں ”بزنجو تو پھر بزنجو تھا“ متوازن ، مہربان اور بالغ فکر اس بڑے انسان نے چاہ بہار سے لے کر جھنگ تک اور نیم روز سے لے کر خان گڑھ تک ایک پورے برصغیر کی سیاست کی۔ ایک بے انت صحرا کی باغبانی کی ۔ بزنجو کی سیاسی بصیرت اور مستقل بین مزاج نے پڑوسی لیڈر شپ اور دانشوروں کو متاثر کیا۔ بزنجو بلوچ تہذیب و تاریخ کے ساتھ ابد تک اس صورت جڑا رہے گا۔ جسے نظرانداز کبھی بھی نہیں کیا جاسکے گا وہ مستقبل میں بہت دیر تک اچھے انسانوں کو اپنے بارے میں ، اپنے نظریات و سیاست کے بارے میں اور ان کی روشنی میں اُس عہد کے درد کے بارے میں بڑے بڑے ہالوں کے اندر جمع کرواتا رہے گا۔ اپنی سوچ کے تسلسل میں چلنے والے اُس دور کے قافلے شامل کرواتا رہے گا۔ بزنجو مکمل طور پر ایک سیاسی انسان ، وہ اندر، باہر، ظاہر ، باطن سیاست ہی سیاست تھا۔ بزنجو سیاست کا بیٹا، بھائی اور باپ تھا۔ بزنجو بلوچستان کی خشک زمین اور کھٹن کوہستانوں کا البیلا، بابا بزنجو کی سب سے بڑی خوبی خصوصیت ثابت قدمی تھی۔ کوئی ادل بدل ، کوئی دایاں بایاں نہیں، یار دوست اِدھر اُدھر گئے کوئی یہاں لپکا، کوئی وہاں جھپکا، مگر میر بزنجو گہری جھیل کی طرح کوئی ارتعاش نہیں، کوئی پس و پیش نہیں۔ بستر مرگ تک اپنی اس بات پر قائم رہا کہ قوموں کو ان کی پیدائشی اور فطری انسانی حقوق دیے جائیں۔
میر غوث بخش بزنجو کی سیاست ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس میں کئی نشیب و فراز آئے گئے مگر وہ جمہوریت کی بقاءکے لیے استعماری قوتوں کے خلاف جدو جہد اور ترقی پسند سیاست سے بھی دستبردار نہیں ہوئے۔
عوامی شاعر حبیب جالب کا بزنجو سے گہرا نظریاتی رشتہ رہا۔ بزنجو صاحب کی وفات پر حبیب جالت نے انہیں جو خراجِ عقیدت پیش کیا ، وہی ان کی سیات کا نچوڑ ہے۔
اسے مصلحت نہ آئی یہی اس کی تھی بڑائی
چلو اس کے راستے پر میرے ہمدمو ، رفیقو
یہ جو تخت پر بیٹھیں ہیں تمہیں ذلتیں ہی دیں گے
جو سجا ہے ان کے رخ پر ، یہ تمہارا خوں ہے لوگو
بابا ہم مایوس نہیں ، ہم آپ کے نظریئے ، آپ کے جہد مسلسل کے پیروکار ہیں۔آپ نے پوری زندگی جس طرح عوام کی خدمت کی اور جہوریت کے لیے جنگ لڑی۔ ہماری قوت بھی عوام ہے۔ عوامی جدوجہد ہی جمہوری جدوجہد ہے ۔۔ اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں