تاریخی طور پر بلوچوں کا نظام جمہوریت پر مبنی تھا لیکن سنڈیمن نے اسے بگاڑ دیا اور قبیلے کی قیادت اہلیت کی بجائے اپنے وفاداروں کو دینا شروع کر دیا،ظہور بلیدی
کوئٹہ (ویب ڈیسک)بی اے پی کے صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تاریخی طور پر بلوچوں کا روایتی قبائلی نظام مشاورت، اہلیت اور اجتماعی شمولیت پر مبنی ہوا کرتا تھا، جہاں قبیلے کی قیادت جمہوری انداز میں اس فرد کے سپرد کی جاتی تھی جو دانش، بہادری، تدبر اور قبیلے کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین صلاحیتوں کا حامل ہوتا، نہ کہ صرف موروثی حق کی بنیاد پر۔ تاریخ میں یہ موقف بھی پیش کیا جاتا ہے کہ برطانوی دور کی پالیسیوں، خصوصاً رابرٹ سنڈیمن کے نظام، نے قبائلی ڈھانچے کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ وفاداری کو اہلیت پر فوقیت دی گئی اور موروثی سرداری کو مزید مضبوط کیا گیا۔ اس تبدیلی نے بلوچ معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی ارتقا کو محدود کیا، مقامی قیادت کی فطری نشوونما کو متاثر کیا اور قبائل میں جانشینی کی قیادت کے روایتی ڈھانچوں کو بھی شدید متاثر کیا۔ اگر بلوچستان کو حقیقی ترقی، انصاف اور بااختیار معاشرہ بنانا ہے تو قبائلی نظام پر سنجیدہ نظرثانی ضروری ہے جو میرٹ، عوامی شمولیت اور جوابدہی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ وقت آ گیا ہے کہ قبائلیت، شخصیت پرستی اور موروثی بالادستی کے بجائے اہلیت، انصاف، جمہوری اقدار اور عوامی نمائندگی کو فروغ دیا جائے۔


