صوبہ بھر میں ایل پی جی کی مہنگی فروخت،سرکاری نرخ ہوا میں اڑا دیے گئے

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) پیٹرولیم مصنوعات کے بعد اب ایل پی جی (مائع پیٹرولیم گیس) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 254 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں گیس مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں نے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔کوئٹہ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فی کلو قیمت تقریباً 252 روپے مقرر ہونے کے باوجود ہول سیل مارکیٹ میں ایل پی جی 380 سے 420 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کمرشل صارفین بھی متاثر ہو رہے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 120 روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث کھانا پکانے اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے قیمتیں مقرر کرنے کے باوجود اگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مو¿ثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں