چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بینچ بنا سکتے ہیں

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس میں بینچ کی تشکیل سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلہ 28 صفحات پر مشتمل ہے،جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں   نظر ثانی درخواستیں نمٹاتے ہوئے بینچ کی تشکیل کا معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو بھجوایا جاتا ہے،بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے،چیف جسٹس آف پاکستان  چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بینچ بھی بنا سکتے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے،نظرثانی بینچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے،فیصلہ تحریر کرنے والا جج دستیاب نہ ہو تو حکمنامے سے اتفاق کرنے والا جج بینچ کا حصہ ہوتا ہے،نظر ثانی رولز ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں سپریم کورٹ کے رولز ہیں،عدالت عظمی  میں نظر ثانی کی درخواستیں سپریم کورٹ رولز کے تحت دائر ہوتی ہیں، نظرثانی درخواستوں میں درخواست گزار کو محدود رکھا گیا ہے،کیس سننے والے بینچ میں شامل ہر جج کی رائے اہم ہوتی ہے،تحریری فیصلے میں پاناما کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاناما کیس میں پانچ رکنی لارجر بینچ میں تین ججز نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا،پاناما کیس میں 2  ججز نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو فوری نااہل کرنے کا فیصلہ دیا،سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما  نواز شریف کو فوری نااہل کرنے کا فیصلہ دیا،پاناما کیس میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جسٹس دراب پٹیل کی طرح اقلیتی فیصلہ دیا تھا۔ فیصلے میں سابق وزیراعظم  ذوالفقار علی بھٹو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے ک  زوالفقار علی بھٹو کیس میں جسٹس دراب پٹیل نے نظر ثانی سے متعلق  اختلافی نوٹ دیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں