ملک انارکی کی طرف جاتا نظرآتا ہے

ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا اس سے انتظامیہ اور الیکشن کمیشن دونوں کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔انتظامیہ مستعد ہوتی تو فائرنگ کی ہمت نہ کی جاتی۔لاشیں نہ گرائی جاتیں،خوف وہراس پھیلانے والے اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوتے۔اگر ایک دو حلقوں میں انتخابی عمل قانون کے دائرے میں پایہئ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت الیکشن کمیشن نہیں رکھتاتو پورے ملک کے انتخابات کے حوالے سے کیسے ممکن ہے کہ یہ آئینی ادارہ قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔دھاندلی رکوانا ماضی میں الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری کبھی نہیں رہا۔ورنہ پاکستان کیایک انتخابات توایسے ضرور ہوتے جنہیں شفاف ترین کی مثال کہا جاسکتا۔ایک مثال اگر دی جاتی ہے تووہ 1970کے انتخابات ہیں اور یہ بھی آدھا سچ ہے،اس لئے کہ مشرقی پاکستان میں نورالامین، محمود علی اور راجا تری دیو رائے کے سوا تمام نشستوں پر عوامی لیگ اپنے 6نکات پرکامیا ب ہوئی، نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی کے مطابق مذکورہ 6نکات شیخ مجیب الرحمٰن کو اسلام آباد میں کسی ذمہ دار بیوروکریٹ نے یہ کہہ کر دیئے تھے کہ آئندہ الیکشن ان نکات پر لڑنا ہوگا۔(عوامی لیگ کے مخالفین کے لئے آزادانہ ماحول نہ ہونے کی اطلاعات بھی عام تھیں)۔ان نتائج کو اس وقت کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرجنرل یحییٰ خان نے تسلیم نہیں کیا،ملک دو لخت ہوگیا۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتاکہ الیکشن کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں،ثبوت کے لئے سپریم کورٹ کے ریمارکس کافی ہیں۔رسوائے زمانہ 2018کی ویڈیو مسکت شہادت(evidence)ہے جس سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے،پی ٹی آئی نے اپنے20ایم پی ایزسینیٹ انتخابات میں بیچنے کے جرم میں نکال دیئے تھے،مگر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں تسلیم کیا کہ اس نے اس ویڈیو پر دو سال گزرنے کے باوجوکوئی کارروائی نہیں کی، بلکہ یہ مضحکہ خیز اعتراف بھی ریکارڈ پر ہے کہ الیکشن کمیشن کو چند روز پہلے اس کا علم ہوا ہے۔یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر نون لیگ اور پی پی پی کے اتفاق رائے سے منتخب ہوئے تھے۔اس سے زیادہ کچھ یاد دلانے کی ضرورت نہیں، ان کی کارکردگی کے دفاع(یا عدم دفاع)کیلئے کافی ہوگی۔اَللہ کی عدالت میں پیشی ابھی باقی ہے۔کوئی ریاست بلاوجہ اپنی رٹ سے محروم نہیں ہوا کرتی،۔۔۔۔وقت کرتا ہے پرورش برسوں؛:؛ حادثہ دفعتاً نہیں ہوتا۔۔۔۔دکھ کی بات ہے کہ 1970کے سانحہ سے پاکستان کے کرتے دھرتاؤں نے کچھ نہیں سیکھا،ورنہ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات صاف، شفاف، آزادانہ اور منصفانہ ہوتے۔عملہ ووٹوں کے بیگز صبح 6بجے لانے کی بے شرمانہ جسارت نہ کرتا۔ 20پولنگ اسٹیشنز کے رزلٹ میں رد و بدل کا شبہ ہے، الیکشن کمیشن نے انکوائری شروع کر دی ہے۔نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے اپنی سیٹ واپس لے کر رہیں گے، مخالفین میرادوسرا روپ دیکھئیں گے۔حکومتیترجمانشہباز گل کا مشورہ ہیکہ ووٹ کو عزت دیں، اور نتائج تسلیم کریں۔صوبائی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نیکہاہے کہ پی ٹی آئی جیت چکی ہے،نتائج جاری کئے جائیں۔نون لیگ کا مطالبہ ہے کہ پولنگ دوبارہ کرائی جائے۔مبصرین کے خیال میں صورت حال مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ایک سیاسی مبصر نے اسٹالن کا قول:”ووٹ ڈالنے والوں سے زیادہ اہم ووٹ گننے والے ہوتے ہیں“، بیان کرکے پورے واقعے کے تمام پہلواجاگر کر دیئے ہیں۔ایک مبصر کی رائے ہے کہ ہم(پاکستانی سیاست دان) جمہوریت غیر جمہوری طریقوں سے چاہتے ہیں۔جو کچھ ہوا ہے سب کے سامنے ہے۔اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ منظم دھاندلی ہوئی ہے۔پریزائیڈنگ افسر علیحدہ علیحدہ مقامات سے اٹھائے گئے مگر آئے سب اکٹھے ہیں۔الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز لمحہئ فکریہ ہے۔ مقتولین کالہو ان سب کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے جوالیکشن پروسیس کاحصہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس حلقے کو حساس حلقہ قرار دے کر خصوصی انتظامات کیوں نہیں کئے گئے؟ایجنسیوں نے بروقت حکومت کو یقینا اطلاع دی ہوگی، لیکن حکومت نے مناسب حفاظتی اقدامات سے غفلت برتی۔ویسے بھی سیاست جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے مطابق آنے والے دنوں میں سیاسی تقسیم کا عمل تیز ہوگا،اور اس کے نتیجے میں تحمل اور برداشت کی جگہ مخاصمانہ رویوں کو فروغ ملے گا۔اور یہی خطرے کی گھنٹی ہے۔ فساد اگر ایک دفعہ کہیں پھوٹ پڑے تو روک تھام آسان نہیں ہوگی۔امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ایک ہمہ گیر حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈسکہ ضمنی انتخابات کو ٹیسٹ کیس سمجھا جائے۔ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو صفحہئ ہستی سے مٹانے کی احمقانہ سوچ کو ترک کریں، طویل مارشل لاء یہ کام نہ کر سکے، کوئی سیاسی پارٹی چاہے تب بھی اس راستے پر چلنے کی غلطی نہیں کرسکتی، کرنی بھی نہیں چاہیئے۔ جمہوری سیاست میں جمہوری فیصلہ حتمی مانا جاتا ہے، پاکستان کی بقاء اور سلامتی بھی اسی میں ہے کہ کوئی انوکھی پالیسی مسلط نہ کی جائے۔جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے 2018کا انتخابی نتائج والے تجربہ اور اس کے نقائص کو نہ دہرانے کی ضمانت کون دے گا؟ایسی غلطی اگر مستقبل میں کسی اور شکل میں آزمانے کی کوشش کی گئی تو انتخابی عمل سے عوام منتنفر ہو جائیں گے اور یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔ الیکشن کمیشن ابھی تک خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوا۔سپریم کورٹ موجودہ آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے فیصلہ
صادر کرنے کی پابند ہے،اصلاح کے لئے محدودگنجائش ہے، مگر معاملات ابھی بند گلی میں نہیں پہنچے دانشمندی سے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ سینیٹ کے انتخابی نتائج مستقبل کی راہ متعین کریں گے۔فی الحال دونوں فریق(پی ڈی ایم اور حکومت) اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی بلا شبہ اپنے غیر معمولی پس منظر کے باعث عام امیدوار نہیں سمجھے جا سکتے، اپنے مد مقابل عبدالحفیظ شیخ سے زیادہ بھاری شخصیت ہیں۔لیکن پاکستان کی سیاست معجزات اور کرشمات سے مزین ہے64کو عوام نے اپنی آنکھوں سے 50ہوتے دیکھا ہے، اور یہ تازہ واقعہ ہے۔قومی اسمبلی کی بلڈنگ میں رونما ہوا تھا اب بھی فیصلہ اسی عمارت میں کیا جائے گاعمارت آسیب زدہ ہوتو عام آدمی کا د ل یقینا دھڑکے گا!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں