این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کیخلاف کیس کی سماعت

اسلام آباد :سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کیخلاف کیس کی سماعت میں الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کیلئے مختص بجٹ کی تفصیلات اور 23 ، 25 فروری کی سماعت کا ریکارڈ جمع کرا دیا۔

سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کے لیے ایک کروڑ 91 لاکھ 78 ہزار کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کے لیے مختص بجٹ 25 فروری کو جاری کیا گیا ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کیس میں کہا کہ ویڈیو لنک پر نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجا کو سنیں گے، مگر ویڈیو لنک ابھی موجود نہیں ہے تو ہم علی اسجد ملہی کے وکیل شہزاد شوکت کو سن لیتے ہیں۔

تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی کے وکیل شہزاد شوکت نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ضمنی انتخابات میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، ضمنی الیکشن میں کم ٹرن آؤٹ معمول کی بات ہے۔

وکیل علی اسجد ملہی نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے ٹرن آؤٹ کی تفصیلات لیں، اس پر عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو اعداد و شمار کی تصدیق کی ہدایت کردی۔

وکیل پی ٹی آئی نے بتایا کہ ڈسکہ ضمنی الیکشن میں ٹرن آؤٹ 46 فیصد رہا، جبکہ عام انتخابات میں ٹرن آؤٹ 42 فیصد رہا۔شہزاد شوکت کاکہنا تھا کہ کم ٹرن آؤٹ پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کی وجہ نہیں ہوسکتا، حلقے میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی خراب تھی، ہر الیکشن میں ایسے واقعات ہوتے ہیں اس پر پورا الیکشن کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے اسجد ملہی نے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں