انتظامیہ کی پابندی ہوا میں اڑا دی گئی، خضدار سے مویشیوں کی اسمگلنگ جاری، عید قربان سے قبل قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
خضدار (بیورو رپورٹ) ضلع خضدار سے باہر مال مویشی لے جانے پر عائد پابندی کے باوجود جانوروں کی اسمگلنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا، خضدار بکرا پیڑی کھٹان، جعفرآباد اور کوشک کی ندیوں کے راستے روزانہ کنٹینر، بسزوں اور مزدا گاڑیاں بھرکر سینکڑوں جانور ضلع سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ روز باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے خضدار سے باہر مال مویشی کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی ضلعی انتظامیہ کا موقف تھا کہ اس اقدام کا مقصد مقامی منڈیوں میں جانوروں کی فراہمی یقینی بنانا اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر قیمتوں کو اعتدال پر رکھنا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں پابندی کے اعلان کے محض 24 گھنٹے بعد ہی بکرا پیڑی کھٹان، جعفرآباد اور کوشک کی ندیوں کے راستوں سے مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے، عینی شاہدین کے مطابق عصر اور مغرب کے درمیان ان علاقوں سے بڑی تعداد میں جانوروں سے لدی مزدا گاڑیاں نکلتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روزانہ سینکڑوں بکرے، دنبے اور گائے کوئٹہ اور مکران کے راستے ایران اور افغانستان اسمگل کیے جارہے ہیں، مقامی بیوپاریوں کا ایک منظم نیٹ ورک اس کاروبار میں ملوث بتایا جاتا ہے، جس پر تاحال کوئی موثر کارروائی نہیں ہوسکی، اس غیرقانونی ترسیل کے باعث خضدار کی مقامی منڈیوں میں جانوروں کی شدید کمی ہوگئی ہے، طلب اور رسد میں عدم توازن کے سبب قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، عام شہری کا کہنا ہے کہ جو بکرا ایک ہفتہ قبل 25 اور 30 ہزار کا تھا، اب وہی جانور 60 ہزار سے کم میں دستیاب نہیں۔ عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو سنت ابراہیمی کی ادائیگی غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے ناممکن ہو جائے گی۔ عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی، اسسٹنٹ کمشنر حفیظ اللہ کاکڑ اور دیگر متعلقہ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ خود فیلڈ میں نکل کر صورتحال کا جائزہ لیں اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں تاکہ شہری سستے داموں قربانی کا جانور خرید کر عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔


