اساتذہ اور علمی شخصیات کو نشانہ بنانا بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری شناخت پر حملہ ہے، سرفراز بگٹی

کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تربت میں لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں ریاست دشمن عناصر کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کا قتل بلوچستان کے امن، قانون کی بالادستی اور ریاستی رٹ پر حملہ ہے انہوں نے کہا کہ خواتین، اساتذہ اور بچوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد عناصر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لیڈی پولیس اہلکار کے خاندان پر حملہ دہشت گردوں کی سفاک ذہنیت کا واضح ثبوت ہے اور معصوم شہریوں پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھی جائے گی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اساتذہ اور علمی شخصیات کو نشانہ بنانے کے واقعات کو بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری شناخت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قلم اور شعور کے دشمن عناصر صوبے کے روشن مستقبل کے دشمن ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے عناصر کو قانون کے شکنجے میں لا کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں