بلوچستان کے خراب حالات کے ذمہ دار سرداروں کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن پارلیمنٹ ان کے سرداروں کی ہی اکثریت ہے ، اصغر اچکزئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و سابقہ ایم پی اے اصغر اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ہماری شاہراہیں ، ہمارے گھر ، ہمارا صوبہ حتیٰ کے ہمارا ملک تک محفوظ نہیں ہے ۔ آج لوگوں کو گھروں سے نکلتے وقت ڈر لگتا ہے کہ واپس بھی آ پائیں گے یا نہیں ۔ اسلام آباد کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو بلوچستان اور اس کے عوام کے مسائل نظر نہیں آتے ،کوئٹہ کراچی شاہراہ پر آئے دن لوگوں کو فائرنگ کر کے مارا جاتا ہے ، لوٹا جاتا ہے ، تیل بردار گاڑیوں کو جلایا جاتا ہے، اگر ہم صرف بلوچستان کی بات کریں تو کئی عرصہ سے عسکریت پسندی کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ہم ان ایوان میں بیٹھے لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مراکز کہاں ہیں وہاں پر آپ کارروائی کیوں نہیں کرتے ،ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ صرف بلوچستان اور کشمیر میں ہی یہ لوگ موجود ہیں باقی ملک میں کیوں نہیں جاتے وہاں پر کارروائیاں کیوں نہیں ہوتی ۔صوبہ میں داخل ہونے کے بعد کارروائیوں کا تماشا کیوں لگایا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے خراب حالات کے ذمہ دار سردار اور بلوچ رہنماءہیں ،جو سردار تھے ، ٹکری تھے ، نواب تھے ،وہ آپ کے خود کے پیدا کردہ تھے ۔ وہ تو یہاں سے کب کے استعفیٰ دے کر چلے گئے اب تو وہ یہاں موجود نہیں ہیں اب کیوں ان کے نام پر کارروائی کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ میں اکثریت ان کے سرداروں کی ہی ہے ۔ڈی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بلوچوں سے شروع ہو کر پشتونوں پر ختم ہوتی ہے۔ دفاعی بجٹ مختص ہونے کے باوجود سیکورٹی صورتحال ابتر کیوں ہے۔ یہ عسکریت پسند لوگ کہاں سے آتے ہیں ۔ ان کو آنے سے پہلے روکا کیوں نہیں جاتا ۔ان کے خلاف کارروائی صوبہ میں داخل ہونے کے بعد کیوں کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں