ایچ آر سی پی کا پروفیسر غمخوار حیات کے قتل، گوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر و دیگر کے مبینہ اغوا پر اظہار تشویش

ایچ آر سی پی نے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت تشویش ہے جہاں شہری جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسندوں کے حملوں زدمیں تیزی سے آرہے ہیں۔ بیان میں حالیہ واقعات کا حوالے دیتا ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے مستونگ میں وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور گوادر یونیورسٹی کے دو دیگر ملازمین کا مبینہ اغوا، ریاست کی اہم شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ بیان میں مزید کہا ہے کہ ایچ آر سی پی کو آج نوشکی میں پروفیسر غمخوار حیات کے قتل پر بھی تشویش ہے اور ایچ آر سی پی حکومت کو یاد دلاتی ہے کہ جب اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو اغوا یا گولی مار کر ہلاک کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج انفرادی سانحات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں، بنوں، باجوڑ اور لکی مروت میں مہلک حملے، بشمول سرائے نورنگ میں ایک پرہجوم بازار میں بم دھماکے، عسکریت پسندوں کے تشدد کے بڑھتے ہوئے نمونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اندھا دھند جانیں لے رہا ہے، جن میں عام شہری، پولیس افسران اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ ہم ریاست پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذمتی بیانات سے آگے بڑھے اور یہ ظاہر کرے کہ انسانی جانوں اور عوامی مقامات کو اب بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے یونیورسٹی کے لاپتہ اہلکاروں کی بازیابی، ایسے تمام حملوں کی معتبر تحقیقات، اور قصورواروں کا احتساب فوری اور ضروری پہلے اقدامات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں