پاکستان سے خوشگوار تعلقات کی خواہش
بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے یوم پاکستان پر وزیراعظم عمران خان مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔ اس کے لئے اعتماد پر مبنی دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول اہم ہے۔ مودی نے خط میں کورونا سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم اور پاکستان کے عوام کے لئے نیک خواہشات کااظہار بھی کیا اور کہا کہ ”انسانیت کے مشکل دورمیں کورونا چیلنج سے نمٹنے پر آپ کو اور پاکستان کے عوام کو مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہوں“۔اس میں شک نہیں کہ پاکستان اور بھارت دو ہمسایہ ملک ہیں اور ان کی تاریخ بھی صدیوں مشترکہ رہی ہے بلکہ انگریزوں کی غلامی سے نجات کے لئے یہاں کے عوام نے مل کر جدوجہد بھی کی ہے۔مگر یہ بھی تلخ حقیقت کہ دونوں ملک انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے سے آج تک بعض تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں اور کوئی ایسا حل تلاش نہیں کر سکے کہ دونوں ممالک کے عوام دشمنی اور دہشت گردی سے نجات حاصل کر لیتے۔ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کی احمقانہ خواہش کا شکار نہ ہوتے۔پون صدی اس مخاصمت کی بھینٹ چڑھ گئی۔27فروری2020کو جو واقعہ پیش آیا نہیں آنا چاہیئے تھا۔ بھارتی ایئر فورس کے ونگ کمانڈر ابھینندن کو ہنگامی حالات میں اپنے لڑاکا طیارے سے پیرا شوٹ کے ذریعے نیچے اترنا پڑا۔اس نے اترتے ہوئے جو مناظر دیکھے، انتہائی جرأت اور بیباکی سے ھگبیان کر دیئے۔اس نے کہا:”دونوں ملکوں کے درخت ایک جیسے ہیں، عوام ایک جیسے ہیں“۔ ایئر فور س کے تجربہ کار افسر نے تسلیم کیا کہ وہ یہ بھی نہیں جان سکا جس زمین پر اترا،اس کا اپنا دیس ہے یا وہ پاکستان میں ہے؟ ارد گرد موجود لوگوں سے دریافت کیا تو علم ہوا کہ وہ پاکستان میں ہے۔دونوں ملکوں کے ماحول، اور عوام میں اتنی مشابہت اور یک رنگی ہے کہ ایئر فورس کا سینیئر افسر بھی کوئی فرق محسوس نہیں کر سکا۔اتنے ملتے جلتے ماحول اور عوام ہیں کہ بھارتی ایئر فورس کا افسر کو پوچھے بغیر علم نہیں ہو سکا کہ زخمی حالت میں جس زمین پر موجود ہے، وہ بھارت ہے یا پاکستان؟یہ خیالات بھارتی افسر کے ہیں۔اس نے یہ بھی مانا کہ وہ نہیں جانتا کہ دونوں ملکوں کے حکمران ایک دوسرے کے خلاف کیوں جنگوں میں مصروف ہیں۔واضح رہے یہ خیالات دنیا و مافیہا سے بے خبر کسی دور افتادہ مقام پر رہنے والے شخص کے نہیں، دنیا بھر میں گھومنے والے ایئر فورس افسر کی زبان سے سنے گئے ہیں۔یقینا بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھی سنے ہوں گے۔کبھی ٹھنڈے دل سے ضرور سوچیں ان کا افسر انہیں کیا پیغام دے رہاتھا؟ یہ افسر پاکستانی حدود میں راستہ بھٹک کر نہیں آگیا تھا،اسے بھارتی حکومت کے حکم پر پاکستانی حدود میں بم گرانے اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بموں سمیت بھیجا گیا تھا۔خود اپنی مرضی سے آیا ہوتاتو اسے بھارت کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نہ نوازاجاتا۔ ہمسائے اس لئے نہیں ہوتے کہ ان پر خطرناک بم گرانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔تنازعات کی وجوہات اور اسباب سے مودی سرکار بخوبی واقف ہے۔پون صدی سے حل طلب ہیں، حل کئے جائیں۔ کورونا یقینا انسانیت کا بہت بڑا دشمن ہے، لیکن جنگی جنون اس سے بھی بڑااور زیادہ خطرناک دشمن ہے۔دونوں ملکوں کو ترقی اور خوشحالی سے دور کئے ہوئے ہے۔دونوں ملکوں کے عوام بھوک، افلاس، پسماندگی،اور بیماری جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ جنگی جنون سارے وسائل(یا دستیاب وسائل کا بڑا حصہ) چٹ کر جاتا ہے۔ دوستی کا ہاتھ بڑھا کر عوام کوذرا عوام کے بھوکے ننگے جسم دیکھیں، ہڈیوں کا ڈھانچا نظر آتے ہیں۔غربت ان کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے۔ بھارت سرکاراس سے انکار نہیں کرسکتی کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے حلف برداری کے فوراً بعد نریندرا مودی کو پیغام دیا تھا کہ آپ ایک قدم آگے بڑھیں گے، ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔یہ پیشکش انہوں نے بار بار دہرائی مگر بھارت نے تا حال کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں دیا۔یہ موقع اس سے زیاد ہ تفصیلات میں جانے کی اجازت نہیں دیتا۔بین السطور کہے گئے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔اب تو امریکی حکومت بھی دونوں ملکوں کو یہی مشورہ دے رہی ہے کہ اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔یہ امر خوش آئند ہے کہ بھارت نے چین سے سرحدی تنازعات ایک گولی چلائے بغیر مذاکرات کی ٹیبل پر حل کر لئے ہیں۔ بہت جلد دنیا کو بتا دیا جائے گا کہ چین اور بھارت اچھے ہمسایوں کی حیثیت سے پرامن زندگی گزارنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔اس میں خطے کی بقاء، استحکام اور ترقی و خوشحالی پنہاں ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ چین سے تنازعات اس لئے حل کرنا پڑے کہ چین ایک ایٹمی ملک ہے۔اور کسی ایٹمی ملک کو اسلحے کے زور پر محکوم بنانا ممکن نہیں۔یہی فارمولہ پاکستان سے اچھے مراسم قائم کرنے کے لئے بھی آزمایا جا سکتا ہے۔خطے کے عوام امن سے رہنا چاہتے ہیں۔بلاوجہ کی ضد اور انا پرستی عوام کو بھوک، بیماری اور افلاس کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔اسے ذہن سے نکالنا ہی مناسب ترین فیصلہ ہوگا۔مہم جوئی کی آخری حدوں تک جا کر دیکھ لیا گیا ہے کہ شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ امریکہ ویت نام کے بعد افغانستان سے بھی پسپا ہونے پر مجبور ہے۔روس افغانستان پر حکمرانی کا خواب پورا نہ کر سکا۔چین کو چین میں اور پاکستان کو پاکستان میں گھس کر مارنے کا نعرہ ناقابل عمل تھا، حقیقت نہ بن سکا۔تھوڑی ہمت کی جائے،اپنے ایئر فورس کے آفیسر ابھینندن کی بات مان لیں۔ جنگی جنون دونوں جانب پسند نہیں کیا جا رہا، امریکہ بھی کسی مہم جوئی کی حوصلہ افزائی کرتا نظر نہیں آتا۔زمینی حقائق سے آنکھیں چرانا درست نہیں۔ جتنی جلدی دونوں ملک زمینی حقائق تسلیم کریں گے، اتنا ہی عوام کے حق میں مفید ہوگا۔تہنیتی پیغام کو اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے، ایک قدم آگے بڑھائیں، خط افلاس سے نیچے رہنے والوں کو بہتر زندگی کا پیغام دیں۔پون صدی سے اس خطے کے عوام امن کو ترس رہے ہیں۔امن کی راہ ہموار کی جائے۔


