بلوچستان کے 3500 طلباء کو انٹرنشپ دینگے، سیکرٹری آئی ٹی
کوئٹہ:وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر وفاقی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کمیونیکشن شعیب احمد صدیقی نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔ وفاقی سیکریٹری نے پیر کو یہاں چیف سیکریٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا سے ملاقات کی اس موقع پر یونیورسل سروس فنڈ کے سی ای او حارث محمود چوہدری، ایم ڈی پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ عثمان ناصر، سی ای او ایگنائٹ عاصم شہریار حسین، سی ای او نیشنل آئی ٹی بورڈ شباحت علی شا ہ، ریکٹر ورچوئل یونیورسٹی ارشد بھٹی بھی موجود تھے۔ وزارت آئی ٹی کے ماتحت اداروں کے سربراہان نے چیف سیکریٹری بلوچستان کو بلوچستان میں جاری وفاقی وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی۔ وفاقی سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ وزیراعظم اور وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کی خصوصی ہدایت پر پوری ٹیم کے ہمراہ بلوچستان کے دورے پر آئے ہیں دورے کا مقصد بلوچستان میں جاری آئی ٹی اور ٹیلی کام کے منصوبوں کی پیشرفت اوراس شعبے میں بلوچستان کی ضروریات کا جائزہ لینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کا وژن ہے کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ اس لئے بلوچستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام اربوں روپے کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ آئندہ اڑھائی سے تین سالوں میں بلوچستان کی ساٹھ سے اسی فیصد آبادی کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے درجنوں منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بلوچستان کی دو ہزار سے زائد موضع جات اوربیس لاکھ کی آبادی کو یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے نو ارب روپے کی لاگت سے ہائی سپیڈ تھری جی فور جی انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی بلوچستان کیچ، پنجگور، گوادر، چاغی، نوشکی، بولان، مستونگ، زیارت اور نصیرآباد میں پراجیکٹ شروع ہوچکے ہیں اور مختلف مراحل میں ہیں۔ کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں ایک ماہ کے اندر منصوبے شروع ہوجائیں گے۔ صوبے کی تین بڑی شاہراہوں مکران کوسٹل ہائی وے، این ایچ 25چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ اور این اے50 کوئٹہ ڑوب ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ پرموبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے منصوبے پر 50 سے 75 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ یہ منصوبے مکمل ہونے پر 1780 کلومیٹر شاہراہوں پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ جبکہ کوئٹہ تفتان 500 کلومیٹر طویل شاہراہ پر موبائل فون سروس کی فراہمی پر اگلے ماہ کام شروع کردیا جائیگا۔


